سینیٹ انتخاب: صحافیوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں پیر کے روزسینیٹ کی گیارہ نشستوں کے انتخابات کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کوریج سے روک دیاگیا۔ صحافیوں کے احتجاج کے دوران حزب اختلاف کے تین ارکان اسمبلی کو مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا۔ سندھ اسمبلی میں صوبے سے سینیٹ میں خالی ہونے والی گیارہ نشستوں پر انتخاب کے لیے صبح پولنگ شروع ہوئی تھی۔ پولنگ کے آغاز کے بعد سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور اسمبلی میں تعینات پولیس کی سپیشل برانچ کے اہلکاروں کے درمیان موبائل ٹیلی فون اور کیمرے اسمبلی کے اندر لے جانے پر تکرار شروع ہوگئی تھی۔ سپیشل برانچ کی طرف سے کوریج میں رکاوٹ ڈالنے پر صحافیوں نے احتجاجاً انتخابات کا بائیکاٹ کردیا اور عمارت کے باہر لان میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ پولیس اہلکاروں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے صحافیوں کو کوریج کی اجازت دینے کی ہدایت بھی یہ کہہ کر رد کردی کہ وہ الیکشن کمیشن نہیں بلکہ صوبائی حکومت کے احکامات کے پابند ہیں۔ اس تکرار اور کھینچاتانی کے دوران پولیس اہلکاروں نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے واالے تین ارکان مکیشن چاؤلہ، آصف شاہ اور عرفان احمد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس بدسلوکی کے خلاف صحافیوں نے پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا اور دھرنا دیا۔ صحافی وزیرِاعلیٰ کے اسٹنٹ چوہدری محمد علی اور عامر عابدی کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے رہنما مظہر عباس نے دھرنا دینے والے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جب تک وزیراعلیٰ ہاوس کی طرف سے معذرت نہیں کی جاتی وزیراعلیٰ اور سندھ اسمبلی کی کوریج کا بائکاٹ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں صحافیوں سے جو رویہ روا رکھا گیا وہ ایک شرمناک عمل ہے۔ہم غیر جانبدرانہ رپورٹنگ کرنا چاہتے تھے مگر حکومت کے رویے سے لگتا ہے کہ اندر کوئی گڑ بڑ ہے۔ صحافیوں نے پیر کی شام وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی پریس کانفرنس کا بھی بائیکاٹ کردیا۔ | اسی بارے میں سندھ میں ایم ایم اے، پی پی پی اتحاد21 February, 2006 | پاکستان جیل: سینیٹ کمیٹی کی تشویش07 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||