BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 February, 2006, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیل: سینیٹ کمیٹی کی تشویش

کمیٹی کے مطابق جیلوں کی صورتحال ’ہیومن زو یعنی انسانی چڑیا گھر‘ کی مانند ہے۔
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی انسانی حقوق کے متعلق کمیٹی نے ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو سفارش کی ہے کہ زیادہ جیلیں تعمیر کی جائیں۔

حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تمام جیلوں میں گنجائش سے ایک سو فیصد زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں جس سے جیلوں کی صورتحال ’ہیومن زو یعنی انسانی چڑیا گھر‘ کی مانند ہے۔

حکمران جماعت کے سینیٹر ایس ایم ظفر کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں قائد ایوان رضا ربانی سمیت بیشتر جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ کمیٹی نے از خود نوٹس لیتے ہوئے جیلوں کی صورتحال کے متعلق رپورٹ تیار کی جو منگل کے روز ایوان میں پیش کی گئی۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ کئی جیلوں میں بچوں کو عادی مجرم قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جبکہ خواتین کے لیے بھی جیلوں میں مناسب انتظامات نہیں ہیں۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ ’کسی بھی جیل میں خاتون ڈاکٹر نہیں ہے اور ادویات سمیت طب کے بنیادی آلات بھی موجود نہیں ہیں جوکہ تشویش ناک بات ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں کے اندر منشیات جیل عملے کی ملی بھگت سے مہیا کی جارہی ہے اور بدعنوانی بھی بڑھ رہی ہے۔ کمیٹی کے مطابق جیلوں میں کرپشن کا بڑا سبب جیل عملے کی کم تنخواہیں اور انہیں سہولیات فراہم نہ کرنا ہے۔

کمیٹی نے ملک بھر کی جیلوں میں سپاہیوں اور دیگر اہلکاروں کی تنخواہیں اور الاؤنسز یکساں نہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے اس میں فرق نہ کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں انڈر ٹرائل قیدیوں کو عدالتوں میں پیش ہی نہیں کیا جاتا جس کی دو بڑی وجوہات ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور رشوت خوری ہیں۔

کمیٹی نے جیل محکمہ جات کے ماتحت کورٹ پولیس قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی اور کہا ہے کہ اس سے قیدیوں کو عدالتوں میں لانے اور ان کی حالت بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں
بیویاں بھی ساتھ رہ سکیں گی
08 January, 2005 | پاکستان
سزا چھ ماہ، جیل دس سال
03 March, 2005 | پاکستان
جیل میں کوڑوں کی سزا ختم
06 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد