جیل: سینیٹ کمیٹی کی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی انسانی حقوق کے متعلق کمیٹی نے ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو سفارش کی ہے کہ زیادہ جیلیں تعمیر کی جائیں۔ حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تمام جیلوں میں گنجائش سے ایک سو فیصد زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں جس سے جیلوں کی صورتحال ’ہیومن زو یعنی انسانی چڑیا گھر‘ کی مانند ہے۔ حکمران جماعت کے سینیٹر ایس ایم ظفر کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں قائد ایوان رضا ربانی سمیت بیشتر جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ کمیٹی نے از خود نوٹس لیتے ہوئے جیلوں کی صورتحال کے متعلق رپورٹ تیار کی جو منگل کے روز ایوان میں پیش کی گئی۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ کئی جیلوں میں بچوں کو عادی مجرم قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جبکہ خواتین کے لیے بھی جیلوں میں مناسب انتظامات نہیں ہیں۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ ’کسی بھی جیل میں خاتون ڈاکٹر نہیں ہے اور ادویات سمیت طب کے بنیادی آلات بھی موجود نہیں ہیں جوکہ تشویش ناک بات ہے۔‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں کے اندر منشیات جیل عملے کی ملی بھگت سے مہیا کی جارہی ہے اور بدعنوانی بھی بڑھ رہی ہے۔ کمیٹی کے مطابق جیلوں میں کرپشن کا بڑا سبب جیل عملے کی کم تنخواہیں اور انہیں سہولیات فراہم نہ کرنا ہے۔ کمیٹی نے ملک بھر کی جیلوں میں سپاہیوں اور دیگر اہلکاروں کی تنخواہیں اور الاؤنسز یکساں نہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے اس میں فرق نہ کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں انڈر ٹرائل قیدیوں کو عدالتوں میں پیش ہی نہیں کیا جاتا جس کی دو بڑی وجوہات ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور رشوت خوری ہیں۔ کمیٹی نے جیل محکمہ جات کے ماتحت کورٹ پولیس قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی اور کہا ہے کہ اس سے قیدیوں کو عدالتوں میں لانے اور ان کی حالت بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ | اسی بارے میں سرحد کی جیلوں کے نو عمر ’مہمان‘11 August, 2004 | پاکستان پاکستانی جیلوں میں قید بچے12 July, 2004 | پاکستان بیویاں بھی ساتھ رہ سکیں گی08 January, 2005 | پاکستان سزا چھ ماہ، جیل دس سال 03 March, 2005 | پاکستان کوئٹہ جیل، قیدی گنجائش سے دگنے01 October, 2005 | پاکستان جیل میں کوڑوں کی سزا ختم06 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||