BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 December, 2005, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیل میں کوڑوں کی سزا ختم

سنٹرل جیل پشاور
جیلوں میں کوڑے عدالت کے حکم پر مارے جاتے تھے لیکن اب ایسے حکم نہیں دیے جاتے ‘
پاکستان میں جیلوں کے اندر قیدیوں کو اندرونی سزاؤں کے طور پر کوڑے مارنے کے بارے میں آرڈیننس کو ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم حدود قوانین کے تحت زنا اور شراب پینے پر کوڑے مارے جانے کی سزائیں ابھی تک برقرار ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جیل کے اندر قیدیوں کو سزا کے طور پر کوڑے مارے جاتے تھے اور اب چاروں صوبوں اور وفاقی حکومت نے اس سزا کو ختم کر دیا ہے۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ملک طاہر نے بتایا کہ جیلوں میں کوڑے مارنے کی روایت متروک ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیلوں میں کوڑے عدالت کے حکم پر مارے جاتے تھے اور اب عدالتوں نے اس طرح کے حکم دینے بند کر دیے ہیں۔

پاکستان میں کوڑے مارنے کی روایت جنرل ضیاالحق کے دور میں شروع ہوئی تھی۔ ان کے گیارہ سالہ دور حکومت میں درجنوں افراد کو سر عام کوڑے لگائے گئے تھے جن میں چار صحافی بھی شامل تھے۔

ان کے دور کے بعد سابق وزرا اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے دور میں سر عام کوڑے تو نہیں لگائے گئے مگر جیلوں کے اندر عدالت کے حکم پر کوڑے لگانے کا رواج تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق حکومت جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ قیدی جیل سے ایک امن پسند شہری بن کر باہر نکلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کے لیے مفت قانونی مدد کے بارے میں بھی غور کیا جا رہا ہے اور اس بارے میں چاروں صوبوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کے لیے مفت قانونی مدد فراہم کرنے کے بارے میں ریٹائرڈ ججوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی مدد حاصل کریں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تیس جیلیں ہیں جن میں سترہ ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے مگر ان میں ترپن ہزار سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا ہے

اسی طرح صوبہ سندہ میں انیس جیلیں ہیں جن میں آٹھ ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے مگر ان میں تقریباً بیس ہزار قیدی موجود ہیں۔ بلوچستان کی دس جیلوں میں اٹھارہ سو قیدیوں کی جگہ بیس ہزار قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔ صوبہ سرحد کی بائیس جیلوں میں بھی گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں۔

اسی بارے میں
غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری
24 November, 2005 | پاکستان
میڈیا بِل: ثالثی کمیٹی کے پاس
22 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد