BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترمیم شدہ حسبہ بل پیش کر دیا گیا

سرحد اسمبلی
’نیا بل عدالت کے اعتراضات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے‘
صوبہ سرحد میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے پیر کو صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کے احتجاج اور شور کے باوجود ایک نیا حسبہ بل پیش کر دیا ہے۔

سرحد اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر وہی تلخی دیکھنے کو ملی جو اس سے قبل متنازعہ حسبہ بل کی منظوری کے وقت دیکھی گئی تھی۔

سپیکر بخت جہان خان نے سوموار کے روز اسمبلی کی کارروائی کو تقریبا بلڈوز کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم کو بل پیش کرنے کی اجازت دی۔ حزب اختلاف کے کئی اراکین نے نکتہ اعتراض پر اس کے خلاف بات کرنا چاہی لیکن سپیکر نے ان کی ایک نہ سنتے ہوئے بل کو ایوان میں متعارف کروا دیا۔

حزب اختلاف کے کئی اراکین نے نئے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ایم ایم اے کے اراکین کی جانب پھینکیں۔ اسی شور شرابے کے دوران سپیکر نے اجلاس برخاست کر دیا۔

وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ نیا بل ہے اور سپریم کورٹ کے اعتراضات کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلا بل گورنر کی جانب سے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے ’مر‘ چکا ہے۔

ایک ایسے موقع پر جب صوبہ سرحد کے پانچ اضلاع زلزلے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس بل کے پیش کرنے کے بارے میں حزب اختلاف کے اعتراض کے جواب میں ظفر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا دل بھی خون کے آنسو رو رہا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ آفت بھی انسانوں کے اپنے اعمال کی وجہ سے آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم انہیں اعمال کو درست کرنے کے لیے خدا کے قوانین لانا چاہتے ہیں۔ اس میں اخلاق کا بھی، قوم کا بھی اور دین کا بھی بچاؤ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ متوازی عدالتی نظام کی فکر سب سے زیادہ تو سپریم کورٹ کو ہونی چاہیے تھی لیکن اس نے اس بارے میں کوئی اعتراض نہیں کیا تو اس بل کے مخالفین ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔

انہوں نے حزب اختلاف پر الزام لگایا کہ اس کا رویہ غیرجمہوری اور غیراخلاقی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت عظمی کے فیصلے کو انہوں نے قبول کیا ہے اور یہ نیا مسودہ تیار کیا ہے لیکن حزب اختلاف عدالتی حکم کو تسلیم نہیں کرتی۔

حزب اختلاف کے رہنما اور مانسہرہ سے منتخب رکن اسمبلی شہزادہ گستاسپ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے اسے قوم کو ایک ایسے وقت تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا جب اسے زلزلے جیسی آفت کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہزارہ زخمی ہے، آزاد کشمیر زخمی ہے اور ایسے موقع پر اسے پیش کرنا درست نہیں تھا‘۔

قانونی اعتراضات کے بارے میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اسے ابھی گورنر کی منظوری نہیں ملی۔ دوسرا انہیں پرانے بل کو واپس لے کر نیا بل پیش کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’پرانا واپس نہیں لیا گیا تو نیا کیسے پیش کر سکتے ہیں؟‘

نئے مسودے میں مجوزہ محتسب کے اختیارات میں کمی کی گئی ہے۔ عوامی مقامات پر اسلامی اقدار کا نفاذ اور شادی بیاہ میں فضول خرچی روکنے جیسے اختیارات نئے بل میں محتسب کو حاصل نہیں۔ محتسب کے اقدام کو کسی عدالت میں چیلنج نہ کرسکنے کی شق میں بھی بظاہر تبدیلی لائی گئی ہے۔

اس بل کے مخالفین اسے ’مولویوں کا مارشل لا‘ یا طالبان کی بدنام ’امر باالمعروف و نہی ان المنکر’ نامی پولیس سے تشبیہ دیتے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت صوبے میں حسبہ کے ادارے کا قیام چاہتی ہے تاکہ بقول اس کے معاشرے کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالا جا سکے اور لوگوں کو جلد انصاف مہیا ہوسکے۔ اس سلسلے میں ایم ایم اے نے ایک بل گزشتہ جولائی صوبائی اسمبلی میں اپنی اکثریت کے زور پر منظور کرا لیا تھا۔

تاہم صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک ریفرنس کے ذریعے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بل کی چند شقوں کو آئین کے متصادم قرار دیا تھا۔

اس سے قبل حزب اختلاف نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے میں تاخیر پر احتجاجی واک آوٹ بھی کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال کی جانب سے ایک مرتبہ پھر یہ یقین دہانی کہ یہ اعلان آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا حزب اختلاف کے لئے کافی نہیں تھی۔ تاہم کچھ وقت بعد حزب اختلاف نے یہ علامتی واک آوٹ ختم کر دیا۔

اسی بارے میں
حسبہ بل پر سماعت ملتوی
25 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد