’حسبہ بِل لوگوں کےتحفظ کےلیے ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبۂ سرحد کی حکومت کے وکیل خالد انور نے منگل کو سپریم کورٹ میں حسبہ بل کے خلاف صدارتی ریفرنس پر اپنے دلائل میں کہا ہے کہ حسبہ بل کا مقصد کسی کو دہشت زدہ یا سزا دینا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ سپریم کورٹ میں منگل کو اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے خالد انور نے کہا کہ حسبہ کے نفاذ کا مقصد صوبے میں قانون کا نفاذ ہے۔ انہوں نے صوبائی محتسب کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کے دفاتر میں عوام کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور ان کی شکایتوں کی سنوائی نہ ہونے کا سد باب کرے گا۔
اس پر چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سرحد کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس قانون کے تحت کسی شخص کے ذاتی فعل کو بھی جانچا جائے گا تو کیا ایسا کرنا آئینی ہو گا۔ اس کے جواب میں خالد انور نے کہا کہ حسبہ بل کسی شخص کے ذاتی فعل کو آئین میں دی گئی شقوں کے تحت جانچے گا نہ کہ محتسب اپنی ذاتی سوچ کے تحت کسی کے خلاف کارروائی کرے گا۔ خالد انور نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے تحت احتساب کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب اسلامی معاشرے کا بنیادی نکتہ ہوتا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ کے ایک جج جسٹس سردار رضا نے کہا کہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں محتسب کا عہدہ نہیں ہے مگر پھر بھی وہاں لوگوں کو انصاف ملتا ہے اور ان کی شکایات پر کارروائی ہوتی ہے۔ خالد انور آئندہ پیشی پر اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔ اس سے قبل اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ حسبہ بل غیر آئینی ہے اور اس میں لوگوں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا کون سا فعل جائز ہے اور کون سا نا جائز۔ اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ کے کئی ججوں نے ان کے دلائل کے دوران ٹوکا اور پوچھا کہ کیا سرحد اسمبلی جس نے یہ بل پاس کیا ہے وہ آئین کے تحت اس کی مجاز ہے یا نہیں؟
چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس کیس کی سماعت کے دورانیے میں روزانہ ایک گھنٹہ اضافے کا اعلان بھی کیا۔ حسبہ بل چودہ جولائی کو سرحد اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ اس بل کے حق میں اڑسٹھ جبکہ مخالفت میں چونتیس ووٹ پڑے تھے۔ پاکستان کی کئی سیاسی جماعتیں بشمول مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بل کی سخت مخالفت کر رہی ہیں جبکہ دینی جماعتوں کے مطابق یہ قانون صوبہ سرحد میں شریعت کے نفاذ میں مددگار ثابت ہوگا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پندرہ جولائی کو یہ ریفرنس آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت دائر کیا گیا ہے۔ اس ریفرنس میں سات سوالات کیے گئے ہیں اور عدالت سے رائے طلب کی گئی ہے۔ صدر نے ریفرنس میں سوال کیا ہے کہ حسبہ بل آئین یا اس کی کسی شق سے متصادم تو نہیں ہے اور کیا اس بل کو قانونی حیثیت مل جانے کے بعد آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق سلب تو نہیں ہونگے۔ ریفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا کہ اس بل کے تحت متبادل عدالتی نظام تو قائم نہیں ہوگا اور لوگوں کی انصاف سے پہنچ دور تو نہ ہوگی۔ عدالت سے پوچھا گیا ہے کہ ان سات سوالات یا کسی ایک سوال کا جواب ہاں میں ہونے کی صورت میں کیا گورنر اس بل پر دستخط کرنے کے لیے پابند ہیں؟ حسبہ بل کے بارے میں وفاقی حکومت اور سرحد حکومت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور کئی وفاقی وزراء نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت اس بل کو صوبے میں نافذ نہیں ہونے دے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||