کوئٹہ جیل، قیدی گنجائش سے دگنے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کی دوسری بڑی جیل کوئٹہ جیل میں ساڑھے تین سو قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن سات سو کے لگ بھگ قیدی جیل میں موجود ہیں اس کے علاوہ جیل کی عمارت خصوصا بچوں اور خواتین کے بیرک انتہائی خستہ حالت میں ہیں۔ انیس سو بیالیس میں تعمیر ہونے والی کوئٹہ جیل میں زیادہ تر قیدی فارن ایکٹ کے تحت گرفتار ہیں جبکہ اس وقت اس جیل میں سیاسی اور قبائلی قائدین بھی موجود ہیں اس کے علاوہ بم دھماکوں میں ملوث ملزمان اسی جیل میں ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس امان اللہ یسین زئی نے سنیچر کے روز جیل کا دورہ کیا اور حکام سے عمارت کی مرمت کے علاوہ مزید کمرے اور بیرکس تعمیر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بچوں کی جیل میں موجود قیدیوں سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ زیادہ تر لڑکے فارن ایکٹ کے تحت گرفتار ہیں ان میں صوبہ پنجاب سے یونان جانے والے لڑکے بھی شامل ہیں جنھیں ایرانی فورسز نے گرفتار کرکے پاکستانی حکام کے حوالے کیا ہے۔ ایک لڑکا قتل کے الزام میں قید ہے۔ اس بچے نے بتایا ہے کہ کسی بات پر لڑائی ہوئی اور پہلے اسے چھریاں ماری گئیں جس کے بعد اس نے وار کیا اور ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ اس لڑکے نے تو لڑائی کی وجہ نہیں بتائی لیکن جیل میں تعلیم دینے والے ایک استاد نے بتایا کہ کچھ لوگ اس سے جنسی زیادتی کرنا چاہتے تھے لیکن جب اس نے بھاگنے کی کوشش کی تو اس کے دوست اسے پکڑ لیتے تھے ۔ لڑائی کے دوران اس لڑکے کے پیٹ پر خنجر کے وار کیے گئے جس سے اس کی آنتیں باہر نکل آئیں۔ جب حملہ آور نے خنجر پھینک دیا تو اس بچے کے ہاتھ میں وہ خنجر آیا جس سے اس نے وار کیے اور ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ کوئٹہ جیل میں کمپیوٹر بھی موجود ہیں جہاں صبح کے وقت بڑے اور شام کے وقت بچوں کو کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے۔ سپرنٹینڈنٹ جیل چنگیزی نے بتایا ہے کہ اب وہ کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں کمپیوٹر کے امتحان منعقد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ یہاں سے فارغ لڑکے اور بڑے اس سرٹیفیکیٹ یا ڈپلومے کی بنیاد پر روزگار کی تلاش کر سکیں۔ کوئٹہ جیل میں فارن ایکٹ کے تحت گرفتار افراد میں زیادہ تر افغان باشندے ہیں جنھیں اپنے ملک نہیں بھیجا گیا۔ چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ جب ان لوگوں کو افغانستان واپس بھیج دیا جاتا ہے تو یہ لوگ اگلے روز واپس آجاتے ہیں لہذا اب حکومتی سطح پر ان لوگوں کو افغان حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||