زنجیر کی جھنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گڈا سائیں سیالکوٹ کے قریب ایک گاؤں کا رہنے والا ہے، اس سے پہلے قتل کے کیس سے بری ہو چکا ہے اور حال ہی میں منشیات کے کیس میں سزا پانے کے بعد اس وقت لاہور جیل میں ہے۔ وہ خود کو علی کا ملنگ کہتا ہے اور بہت خوبصورت آواز میں سلام گاتا ہے۔ سرگودھا سے نکلا تھا اپنی دکان کے لئے تھوک میں سامان خریدنے، مگر پشاور پہنچ کر پولیس نے نوجوان منیر کو جعلی کرنسی کے الزام میں دھر لیا، اور اب وہ جیل میں بیٹھا اپنی ملاقات کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ کراچی سینٹرل جیل میں نفسیاتی امراض کے وارڈ کے باسی سرفراز احتشام کو کہیں چین نہیں کیونکہ اس کو کسی بھی صورت فوج میں بھرتی ہو کر کپتان بننا ہے۔ لاہور جیل کا باریش باسی احمد کمپئوٹر کی تعلیم حاصل کر رہا تھا مگر وہ سمجھتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں نامزد ہونے کا مطلب ہے آپ کی زندگی ختم، آپ نے جرم کیا ہو یا نہیں۔ محمد حنیف اداکاری کا شوق رکھتا ہے اور اسی چکر میں اپنا گھر بار گنوا کر قتل کے مقدمے میں ملوث ہو کر کراچی سینٹرل جیل کے چریا وارڈ یا نفسیاتی امراض کے وارڈ میں آ پہنچا ہے۔ پشاور جیل میں حیدر خان سب سے کم عمر حوالاتی ہے۔ اور اس کا قصور؟ ایک بکری اور ایک بچھڑے کو چرانے کی کوشش۔ کراچی کی عیسیٰ نگری کا رہنے والا منور مسیح بقول اس کے آوارہ گردی کے الزام میں پکڑا گیا تھا، اور چار سال بعد بھی اس کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو پایا ہے۔ اس دوران منور اپنے جیل کے ساتھیوں کو اپنی خوبصورت اور اداس آواز سے بہلاتا ہے۔ کراچی جیل میں ایک قیدی ایسا بھی ہے جسے جیل چھوڑتی ہے لیکن وہ جیل کو نہیں چھوڑتا۔ سید کا مسئلہ کیا ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||