BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 May, 2006, 14:25 GMT 19:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ارباب، متحدہ اختلافات ختم

ایم کیو ایم
اختلافات سے صوبے سندھ کا سرکاری کام متاثر ہو رہا تھا
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے درمیان اختلاف ختم ہوگئے ہیں اور تمام اتحادی مل جل کر کام کریں گے۔

یہ اعلان انہوں نے سنیچر کے روز وزیراعظم ہاؤس میں نیوز کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ اور ایم کیو ایم کے نمائندے بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صوبہ سندھ میں ایک بحرانی ماحول تھا جو بات چیت کے ذریعے حل کرلیا گیا ہے اور اب تمام اتحادی صوبے کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔

ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے اختیارات کیا ہیں اس بارے میں سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے مختصر نوٹس پر بلائی گئی نیوز کانفرنس میں صرف دو سوالات کے جواب دیے اور چلے گئے۔

سندھ حکومت کی دونوں بڑی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ اور ایم کیو ایم میں انتظامی اختیارات اور دیگر معاملات پر گزشتہ ایک ہفتے سے شدید اختلافات چل رہے تھے اور صوبے کا سرکاری کام ٹھپ ہوگیا تھا۔

ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر بابر غوری کا کہنا ہے کہ ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی ہے اور ان کے خدشات دور کیے گئے ہیں اور اب ان کے وزیر اعلیٰ سے اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔

صدر مملکت دو روز تک فریقین سے اپنی مصروفیات کی وجہ سے ملاقات نہیں کر رہے تھے لیکن ایم کیو ایم کے اصرار پر انہوں نے سنیچر کو ان کے تین رکنی وفد سے ملاقات کی۔ اس بارے میں سرکاری بیان میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے وفد نے صدر سے کراچی اور حیدرآباد کے ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت کی۔

گزشتہ تین روز سے وزیراعلیٰ سندھ اور ایم کیو ایم کے سرکردہ رہنما اسلام آباد میں تھے اور وزیراعظم شوکت عزیز، قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری طارق عزیز اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔

فریقین کھل کر اپنے اختلافات بتانے سے بھی گریزاں ہیں اور ان کے درمیاں کیا لین دین ہوئی اس بارے میں بھی کچھ نہیں بتا رہے۔

بابر غوری سے دو بار رابطہ کیا گیا اور جب ان سے پوچھا کہ صدر نے ان کے کیا مطالبے مانے ہیں اور انہیں کیا یقین دہانی کرائی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ فی الوقت مصروف ہیں اور بعد میں بات کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد