ارباب، متحدہ اختلافات ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے درمیان اختلاف ختم ہوگئے ہیں اور تمام اتحادی مل جل کر کام کریں گے۔ یہ اعلان انہوں نے سنیچر کے روز وزیراعظم ہاؤس میں نیوز کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ اور ایم کیو ایم کے نمائندے بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبہ سندھ میں ایک بحرانی ماحول تھا جو بات چیت کے ذریعے حل کرلیا گیا ہے اور اب تمام اتحادی صوبے کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے اختیارات کیا ہیں اس بارے میں سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے مختصر نوٹس پر بلائی گئی نیوز کانفرنس میں صرف دو سوالات کے جواب دیے اور چلے گئے۔ سندھ حکومت کی دونوں بڑی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ اور ایم کیو ایم میں انتظامی اختیارات اور دیگر معاملات پر گزشتہ ایک ہفتے سے شدید اختلافات چل رہے تھے اور صوبے کا سرکاری کام ٹھپ ہوگیا تھا۔
صدر مملکت دو روز تک فریقین سے اپنی مصروفیات کی وجہ سے ملاقات نہیں کر رہے تھے لیکن ایم کیو ایم کے اصرار پر انہوں نے سنیچر کو ان کے تین رکنی وفد سے ملاقات کی۔ اس بارے میں سرکاری بیان میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے وفد نے صدر سے کراچی اور حیدرآباد کے ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت کی۔ گزشتہ تین روز سے وزیراعلیٰ سندھ اور ایم کیو ایم کے سرکردہ رہنما اسلام آباد میں تھے اور وزیراعظم شوکت عزیز، قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری طارق عزیز اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ فریقین کھل کر اپنے اختلافات بتانے سے بھی گریزاں ہیں اور ان کے درمیاں کیا لین دین ہوئی اس بارے میں بھی کچھ نہیں بتا رہے۔ بابر غوری سے دو بار رابطہ کیا گیا اور جب ان سے پوچھا کہ صدر نے ان کے کیا مطالبے مانے ہیں اور انہیں کیا یقین دہانی کرائی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ فی الوقت مصروف ہیں اور بعد میں بات کریں گے۔ | اسی بارے میں سندھ حکومت کو بحران کا سامنا22 May, 2006 | پاکستان ارباب اور متحدہ اسلام آباد میں23 May, 2006 | پاکستان ارباب کو حکمراں جماعت کی حمایت24 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||