ارباب اور متحدہ اسلام آباد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم متحدہ قومی موومنٹ سے مفاہمت کے لیئے اسلام آْباد میں مذاکرات کررہے ہیں۔ پیر کو فریقین میں ہونے والے مذاکرات کو ارباب غلام رحیم نے کامیاب قرار دیا ہے۔ گورنر ہاؤس میں منگل کو ہونے والے مذاکرات میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے گورنر عشرت العباد، سینئر صوبائی وزیر سردار احمد، رؤف صدیقی، عادل صدیقی، شبیر قائمخانی اور ایم اے جلیل شریک ہوئے جبکہ وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے ساتھ صوبائی وزیر صدارت شاہ، نادر اکمل لغاری اور عرفان اللہ مروت موجود تھے۔ ایک گھنٹہ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں مزید مذاکرات ہوں گے۔ جہاں ارباب غلام رحیم مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور قومی سلامتی کاؤنسل کے سیکریٹری طارق سے ملاقات کریں گے۔ وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ چھوٹے مسائل اور کچھ غلط فہمیاں تھیں جو دور ہوگئیں ہیں، ’میرے اختلافات تو نہ پہلے تھے اور نہ اب ہیں‘۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ معاملات باہمی طور پر طے کئے گئے ہیں۔ ’ورکنگ ریلیشن شپ کے حوالے سے ہمارے بھی کچھ مطالبات تھے جن پر بھی بات ہوئی ہے‘۔ ارباب کا کہنا تھا کہ ’اپنے طور پر میری حکومت ٹھیک کام کر رہی ہے جس کی گواہی عوام دے سکتے ہیں، جبکہ ملازمتوں سے پابندی ہٹانے کا ایک طریقہ کار ہے جو بھی وزرارت ضابطے کے تحت آئے گی اس سے پابندی ہٹ جائے گی‘۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد جارہے ہیں جہاں پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کریں گے ’جبکہ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری طارق عزیز، جو صدر کے نمائندے ہیں، ان سے پہلے بھی ملاقات ہوتی رہی ہے اس مرتبہ بھی ہوگی‘۔ دوسری جانب متحدہ قومی مومنٹ کا کہنا ہے کہ ملازمتوں سے پابندی ہٹانے، سمریوں کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں روکنے اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ہونے والے یہ اختلافات برقرار ہیں۔ وفاقی وزیر بابر غوری کا کہنا ہے کہ ’ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ہم عوام کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ کا رویہ مثبت ہے تو مسائل حل ہوجائیں گے‘۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ اور متحدہ کی مذاکراتی ٹیم میں جو بات چیت ہوئی ہے اس سے لندن میں رابطہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری طارق عزیز تمام معاملات سے آگاہ رہے ہیں، اسلام آباد میں مذاکرات میں ان کی بھی شرکت ہونی چاہیئے‘۔ وفاقی وزیر کے مطابق مذاکرات سے لندن میں رابطہ کمیٹی کو آگاہ کیا جائے گا جو اس کے مطابق فیصلہ کرےگی۔ دوسری جانب گورنر عشرت العباد نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ سندھ میں مخلوط حکومت متعلقہ جماعتوں کے درمیان ایک معاہدے کے تحت قائم ہوئی تھی، اس معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کے مابین کچھ ماہ پہلے بھی اختلافات سامنے آئے تھے جو صدر مشرف کی ثالثی کے بعد ختم ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں دھماکہ ’حکومتی غفلت نہیں‘13 April, 2006 | پاکستان قوم پرستوں کی اپیل پر جزوی ہڑتال09 May, 2006 | پاکستان ہڑتال: اندرون سندھ کے شہر متاثر رہے12 May, 2006 | پاکستان ’مشرف کے تحت الیکشن قبول نہیں‘15 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||