BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 May, 2006, 08:48 GMT 13:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہڑتال: اندرون سندھ کے شہر متاثر رہے

کراچی میں ہڑتال جزوی رہا
سندھ میں اپوزیشن جماعتوں کی کال پر جمعہ کے روز کاروبار زندگی معطل رہا تاہم صوبائی دارالحکومت کراچی میں ہڑتال جزوی رہی۔

کراچی میں جمع نماز کے بعد زیب النسا اسٹریٹ، الیکٹرانکس مارکیٹ، صدر بازار سمیت اکثر کاروباری مرکز بند ہوگئے۔ پورے صوبے میں مجموعی طور پر پرامن ہڑتال رہی۔

متحدہ مجلس عمل، اینٹی کالاباغ ڈیم اور تھل کینال ایکشن کمیٹی نے نشتر پارک واقعے کے ملزمان کی گرفتاری، قدیمی بستیوں کو مسمار کرنے، کالاباغ اور بھاشا ڈیم کی تعمیر اور مہنگائی کے خلاف ہڑتال کی کال دی تھی۔

کراچی کے مرکزی کاروباری علاقوں میں معمول کے مطابق کاروبار جاری رہا جبکہ سڑکوں پر معمول سے کم پبلک ٹرانسپورٹ موجود تھی۔ شہر کے مضافاتی علاقوں ملیر، گلشن حدید اور لیاری میں کاروبار بند رہا اور لوگ ٹرانسپورٹ کے لیے بھی پریشان رہے۔

اندرون سندھ کے شہروں حیدرآباد، نواب شاہ، دادو، لاڑکانہ، سکھر، بدین، خیرپور اورگھوٹکی سمیت تمام بڑے شہروں میں کاروبار معطل رہا۔ نواب شاہ اور لاڑکانہ میں مشتعل افراد کے لاٹھی بردار جلوس نے تمام دکانیں بند کروادیں جبکہ گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

متحدہ مجلس عمل، اینٹی کالاباغ ڈیم اور تھل کینال ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اس ہڑتال کو کامیاب قرار دیا ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما پروفیسر غفور احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دکانداروں اور ٹرانسپورٹروں کی تنظیموں کو دھمکایا تھا مگر اس کے باوجود کافی حد تک ہڑتال کامیاب رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے سخت دباؤ کے بعد بھی عوام نے کاروبار بند رکھ کر حکومت اور اس کی پالیسیوں پر بےاعتمادی کا اظہار کیا ہے۔

اینٹی کالاباغ ڈیم اور تھل کینال ایکشن کمیٹی کے سربراہ پی پی پی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے سندھ میں کاروبار بند ہے اور لوگ سراپا احتجاج ہیں۔

کئی شہروں میں دکانیں بند رہیں
انہوں نے کہا کہ سندھ دشمن منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے اور کراچی میں قدیمی بستیوں کو مسمار کر کے لوگوں کو بےگھر کیا جارہا ہے۔ ’ہم نے اس پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔‘

قائم علی شاہ نے کہا کہ ’امن امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مہنگائی حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ اس حکومت کو اقتدار میں رہنا کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کی رہنما ارشاد بخاری نے بتایا کہ صرف پچاس فیصد گاڑیاں چل رہی ہیں۔ ان کے مطابق نشتر پارک واقعے کے بعد ٹرانسپورٹر ڈرے ہوئے ہیں۔ اس دن دس گاڑیاں جلائی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ٹرانسپورٹروں کو کہا تھا کہ جن علاقوں میں امن و امان ہو صرف ان میں گاڑیاں چلائی جائیں۔‘

واضح رہے کہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے اور اینٹی کالاباغ ڈیم اور تھل کینال ایکشن کمیٹی جس میں تمام قوم پرست جماعتیں اور پی پی شامل ہیں الگ الگ احتجاج کا اعلان کیا تھا بعد میں انہوں نے ایک دوسرے کی حمایت کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد