BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 February, 2006, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: حکومت اور اپوزیشن کا احتجاج

کراچی احتجاج
نثار کھوڑو نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کیا
پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کے خلاف کراچی میں پیر کو وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ریلی نکالی گئی جس میں اپوزیشن نے شرکت نہیں کی اور اپنا احتجاج علیحدہ ریکارڈ کرایا۔

صوبائی حکومت کے تحت سندھ اسمبلی سے دوپہر کو نعرۂ تکبیر لگاتے ہوئے ریلی نکالی گئی جس میں سپیکر سمیت صوبائی وزراء، مشیر معاون اور خواتین اراکان بھی شامل تھیں۔

ریلی سے قبل اسمبلی سے پریس کلب تک تمام علاقے میں دفاتر اور دکانیں بند کرا دی گئیں اور بڑی تعداد میں پولیس مقرر کی گئی۔ اس ریلی میں سندھ پولیس کے صوبائی اور شہری سربراہ بھی موجود تھے۔

پورے ملک میں صوبائی حکومتی سربراہ کی قیادت میں نکلنے والی یہ پہلی ریلی تھی۔

سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم نے پریس کلب کے سامنے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مغربی میڈیا کو مسلم امّہ کا پیغام پہنچانے کے لیے اس ریلی کا انعقاد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شان رسالت‘ میں گستاخی برداشت نہیں کی جائیگی۔

وزیرِاعلیٰ سندھ کی قیادت میں حکومتی ارکان کی ریلی کراچی پریس کلب تک گئی

انہوں نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن توہین رسالت کے خلاف نہیں حکومت کے خلاف احتجاج کا اردہ رکھتی ہے۔ ہم نے ایک عام شہری کی طرح پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ارباب نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو پنجاب حکومت نے روکا ہے اس لیے اپوزیشن وہاں جاکر احتجاج کرے سندھ حکومت نے کسی کو نہیں روکا ہے یہاں سب کو پرامن احتجاج کی اجازت ہے۔

دوسری جانب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی کی عمارت سے گورنر ہاؤس تک ریلی نکالی گئی اور دھرنا دیا گیا۔

اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ڈبل پالیسی اختیار کی ہے ایک طرف قومی رہنماؤں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب حکمران تصویریں چھپوانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گورنر وفاق کا نمائندہ ہے ہم اس کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے تھے اس لیے ہم نے اس کا انتظار کیا مگر وہ خوف کے مارے نہیں آرہا کہیں نوکری خطرہ میں نہ پڑجائے۔

اسی بارے میں
قاضی حسین احمد پھر نظر بند
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد