لاہور میں پی پی پی کا کمزور مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو لاہور میں پیپلز پارٹی نے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف پہلا مظاہرہ کیا جس میں پارٹی کے چالیس پچاس کارکنوں نے حصہ لیا۔ پیپلزپارٹی کے مقامی رہنماؤں نے پارٹی کے جھنڈے پکڑے ہوئے تھے اور وہ زیادہ تر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ دوسری طرف، پریس کلب کے گرد ایک ہزار سے زیادہ رینجرز اور پولیس تعینات تھی۔ پولیس والوں نے لاٹھیاں، ڈھالیں، بندوقیں، آنسو گیس پھینکنے کی بندوقیں اور اشک آور گیس کے گولے پکڑے ہوئے تھے۔ پیپلزپارٹی کے مظاہرہ کرنے والے کارکنوں کی تعداد اس موقع پر موجود پریس رپورٹروں اور فوٹوگرافروں سے بھی کم تھی۔ مظاہرہ کے دوران میں سڑک پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی۔
مظاہرے میں پارٹی کے پنجاب کے صدر قاسم ضیا، لاہور کے صدر عزیزالرحمن چن، چند مقامی ارکان صوبائی اسمبلی محمد سمیع، عظمی بخاری اور فائزہ ملک، اور پارٹی میں ایک بار پھر شامل ہونے والے سابق گورنر پنجاب غلام مصطفے کھر بھی شریک تھے۔ جب پارٹی کے مقامی رہنما اقبال سیالوی سے مظاہرہ میں بہت کم شرکت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کم سے کم وہ خود تو شریک ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مظاہرے میں مسلم لیگ (ن) یا اے آر ڈی کی جماعتوں سے بھی کوئی شریک نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کے کمزور مظاہرے سے یہ قیاس آرائیاں کمزور ہوں گی کہ سیاسی جماعتیں کارٹونوں پر احتجاج کی لہر کو (جس کا بڑا مظاہرہ چودہ فروری کو لاہور میں ہوا تھا) کسی سیاسی تحریک کی شکل میں تبدیل کرسکیں گی۔ | اسی بارے میں ایم ایم اے کی خواتین کا مظاہرہ22 February, 2006 | پاکستان ’موت کا فتوٰی دینا صحیح نہیں‘21 February, 2006 | پاکستان کارٹون: کراچی میں کفن پوش ریلی19 February, 2006 | پاکستان ’توڑ پھوڑ سے نقصان اپنا ہی ہوا‘20 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||