پن بجلی منصوبہ، وفاق مخالف مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دورا افتادہ پہاڑی ضلع چترال کے عوام نے جمعہ کے روز وفاقی حکومت کی جانب سے پن بجلی کے ایک منصوبے کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے کے خلاف بڑا احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ایک ماہ کے اندر فیصلہ واپس نہ لیا تو یہ احتجاج مستقل اور پرتشدد شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ حکومت نے انیس سو ستاسی میں چترال کے گولن گول کے مقام پر ایک سو چھ میگا واٹ کے ایک بجلی گھر کی تعمیر کا فیصلہ کیا تھا۔ اس منصوبہ کی رہائشی کالونی اور سڑک کے لیے کوغزی کے مقام پر لوگوں سے اراضی بھی حاصل کی۔ مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ لوگوں کو ان کے مکانات سے بیدخل بھی کیا گیا۔ منصوبے پر کام شروع ہونے والا تھا کہ مقامی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ وفاقی وزیر مملکت امیر مقام نے اس منصوبے کو کہیں اور منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ تاہم اس فیصلے کی وجہ واضع نہیں ہوسکی۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کے لیے ہزاروں کی تعداد میں مقامی افراد نے چترال کے چیو پل سے پولو گراونڈ تک احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ پولو گراونڈ میں مقررین نے جن میں مقامی ناظم عبدالولی خان بھی شامل تھے حکومت پر واضح کیا کہ آج تو یہ احتجاج پرامن تھا لیکن اگر ایک ماہ کے اندر اس منصوبہ پر کام دوبارہ شروع نہ ہوا تو وہ اس احتجاج کو مستقل شکل دے دیں گے۔ عبدالولی نے الزام لگایا کہ اس فیصلے کی وجہ گزشتہ انتخابات میں چترال میں عوام کا متحدہ مجلس عمل کو ووٹ دینا ہوسکتی ہے۔ بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ | اسی بارے میں چترال میں نہر کے لئے احتجاج23 June, 2004 | پاکستان چترال کا حسن گہنا گیا07 June, 2004 | پاکستان مورین: برطانوی سماجی کارکن، پاکستانی شہریت20 September, 2004 | پاکستان چترال: بارش، برف باری، 8 ہلاک18 October, 2004 | پاکستان چترالی خواتین خود کشی پر مائل؟23 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||