BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خوارک کو کاروبار مت بناؤ‘

کسانوں کا مظاہرہ
ناقص منصوبہ بندی کا فائدہ آٹا پیسنے کے کارخانوں کے مالکان اٹھا رہے ہیں
گندم کی فصل کی کم قیمت ملنے کے خلاف جمعہ کے روز ملتان میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے کاشتکاروں نے ایک احتجاجی مظاہرے کے ذریعے مطالبہ کیا کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم سے کم قیمتِ خرید کو یقینی بنایا جائے۔

حکومت پاکستان نے اس سال گندم کی کم سے کم قیمتِ خرید چار سو پندرہ روپے فی چالیس کلوگرام مقرر کر رکھی ہے لیکن کسانوں کو شکایت ہے کہ سرکار کی طرف سے سست رو خریداری کے باعث نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے خریدار گندم کی فصل کی مناسب قیمت نہیں دے رہے۔

احتجاجی مظاہرے کا اہتمام پاکستان کسان اتحاد، ’فارمرز ویژن فورم‘ اور سویرا فاونڈیشن نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔ ان میں سے ایک بینر پر درج تھا ’خوارک کو کاروبار مت بناؤ‘۔

مظاہرے سے خطاب کرنے والے مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث کسان گندم کی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل نہیں کر پا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’منافع خور‘ نجی شعبے کی جانب سے انہیں جو قیمت دی جا رہی ہے اس سے گندم کی پیداواری لاگت بھی حاصل نہیں ہو پا رہی۔

نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے خریدار گندم کی فصل کی مناسب قیمت نہیں دے رہے۔

مقررین نےاس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ ایک طرف حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ اس سال گندم کی ملکی پیداوار ضرورت سے کم ہے اور دوسری طرف ’طلب و رسد‘ کے معاشی اصولوں کے برخلاف گندم کی قیمتیں کم ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کا فائدہ آٹا پیسنے کے کارخانوں کے مالکان اٹھا رہے ہیں جوگندم کم قیمت پر خرید کر آٹا مہنگا فروخت کر رہے ہیں۔

قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے اور احتیاطی تدبیر کے طور پر سرکاری گوداموں میں خوراک کا ذخیرہ رکھنے کے لیئے حکومت بھی ہر سال کسانوں سے گندم خریدتی ہے جس سے نجی شعبے کو خریداری میں مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یوں کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ لیکن اس سال ایک تو سرکاری گوداموں میں پچھلے سال کی خریدی ہوئی گندم بھاری مقدار میں بچی ہوئی ہے اور دوسرا حکومت نے سارا سال گندم کی آزادانہ درآمد کی اجازت دیئے رکھی ہے۔ نتیجتاً حکومت نے اپنے خریداری ہدف بہت کم رکھے ہوئے ہیں اور نجی شعبے کو مبینہ طور پر کھل کھیلنے کا موقع ملا ہوا ہے۔

ان حالات میں حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم سے کم قیمت خرید کے بر خلاف کسانوں کو گندم تین سو ساٹھ سے تین سو اسی روپے فی چالیس کلو گرام پر فروخت کرنا پڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں
مہنگائی کی نئی لہر
02 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد