پٹرول مہنگا تو چینی بھی مہنگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال پاکستانی عوام کو چینی خریدنے کے لیے گزشتہ سال کی نسبت ساٹھ سے ستر ارب روپے زیادہ خرچ کرنا پڑیں گے کیونکہ ملک میں چینی کی قیمتوں میں گزشتہ تین مہینوں میں پندرہ روپے فی کلوگرام جبکہ ایک سال میں بیس روپے فی کلوگرام کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتیں پرانی سطح پر واپس نہیں آسکتیں اور وہ اس کا تعلق اور چیزوں کے ساتھ ساتھ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بھی جوڑتے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں چینی چھبیس روپے فی کلوگرام تھی جو اب بیالیس روپے فی کلو تک جاپہنچی ہے جبکہ گزشتہ سال کے شروع میں چینی کی قیمت بائیس سے تئیس روپے فی کلوگرام تھی۔ لاہور میں اکبری منڈی کے تھوک بیوپاری اکمل سلیم کہتے ہیں کہ چینی کی ملوں نے گزشتہ سنیچر کو چینی کے سودے انتالیس سو روپے فی کلوگرام کے حساب سے کیے۔ ان کے مطابق تھوک میں منگل کے روز چینی کا نرخ انتالیس سو بیس روپے ہے جبکہ پرچون کا نرخ اکتالیس سے بیالیس روپے فی کلو ہے۔ چینی کے تاجروں کے مطابق گزشتہ سیزن میں (گنے اور چینی کا نیا سیزن نومبر سے شروع ہوتا ہے) ملک میں چھتیس سے اڑتیس لاکھ ٹن چینی استعمال ہوئی تھی جس کی مالیت بائیس روپے فی کلوگرام سے شروع ہوکر چھبیس روپے تک گئی تھی۔ یوں ملک میں لوگوں نے کم و بیش نوے سے پچانوے ارب روپے کی چینی خریدی تھی۔ اس سال ملک میں اگر اتنی ہی چینی استعمال کی گئی تو اس کی ساٹھ سے ستر فیصد زیادہ قیمت کی وجہ سے لوگوں کو تقریبا ساٹھ ارب روپے زیادہ ادا کرنا پڑیں گے۔ کاشتکاروں کی تنظیم کسان بورڈ کے ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ اربوں روپے عام آدمی کی جیب سے نکلنے کی وجہ سے مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوگا۔ کاشتکار تنظیم کے ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ اس بار ملک میں گنے کی کاشت کم ہوئی۔ گزشتہ سیزن میں ملک میں ستائیس لاکھ ایکڑ پر گنا کاشت ہوتا تھا جو اس سیزن میں صرف بیس لاکھ ایکڑ رقبہ پر کاشت کیا گیا۔ گویا گنے کے زیرکاشت رقبہ میں پچیس فیصد کمی ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ گنےکی کاشت میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کا کم نرخ دیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مل مالکان تین تین سال کاشتکاروں کے پیسے روک کر رکھتے تھے اور وزن کرتے ہوئے کاشتکاروں کو گنے کی ٹرالی کا کم وزن دکھا کر انہیں نقصان پہنچاتے تھے۔ اسلیے کاشتکاروں نے اس کی کاشت چھوڑ دی یا کم کردی۔ ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ جب گزشتہ نومبر میں گنے کی فصل آئی تو مل مالکان نے کاشتکاروں کو کم نرخ دینے کے لیے کارخانے نہیں چلائے اور ڈیڑھ ماہ تاخیر سے گنا خریدنا اور کرش کرنا شروع کیا۔ ان کے مطابق اس دوران میں کروڑوں ٹن گنا خراب ہوگیا اور کاشتکاروں کو نقصان ہوا۔ شوگر ملز کے بڑے صنعت کار الطاف سلیم کہتے ہیں کہ اس سال (سیزن) جب مل والوں نے گنا نہیں خریدا تو کاشتکاروں نے اس کا گڑ بنایا جس کی انہیں زیادہ قیمت ملی کیونکہ گڑ افغانستان کے راستے وسط ایشیا میں اسمگل ہورہا ہے جہاں اسے غیر قانونی شراب یا الکوحل بنانے میں استعمال کیا جاتاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں گڑ کی قیمت اور چینی کی قیمتیں برابر ہیں حالانکہ گڑ میں آدھی مٹھاس ہوتی ہے۔ جب چینی کی قیمتیں بڑھنے لگیں تو مل مالکان کاشتکاروں کے پیچھے بھاگنے لگے اور چالیس کلو گنے کی قیمت اس وقت ساٹھ سے اسی روپے ہے جو گزشتہ سیزن میں پینتالیس روپے تھی۔ الطاف سلیم کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں چینی کی پیداوار چوبیس سے چھبیس لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ ہے اور ضرورت تقریباً چالیس لاکھ ٹن کی ہے۔ یوں بارہ لاکھ سے چودہ لاکھ ٹن چینی کی کمی رہنے کا اندازہ ہے۔ اکبری منڈی کے تاجروں کےمطابق یہ کمی نو سے دس لاکھ ٹن (نوے لاکھ بوری) ہے جسے باہر سے درآمد کرنا پڑے گا۔
اکبری منڈی کے تھوک کے بیوپاری اکمل سلیم کہتے ہیں کہ شوگر مل والے چینی کا ذخیرہ کررہے ہیں اور اسے روک روک کر بیچ رہے ہیں تاکہ اس کی زیادہ قیمت وصول کرسکیں۔ دوسری طرف حکومتی ادارہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے پاس جو تین چار لاکھ ٹن چینی ہے وہ اسے منڈی میں نہیں لایا اور باہر سے چینی درآمد نہیں ہورہی۔ ماہرین کے مطابق ملک میں ایک ماہ میں اوسطاً تین لاکھ ٹن (تیس لاکھ بوری) چینی استعمال کی جاتی ہے جس کا ساٹھ فیصد بیکری، بوتلوں اور جام جیلی وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے جبکہ چالیس فیصد چینی کا اسستعمال گھروں کے باورچی خانوں میں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کے باجود اب تک تاجروں نے چینی درآمد کیوں نہیں کی؟ الطاف سلیم کہتے ہیں کہ تاجروں کو خوف ہے کہ اگر وہ چھتیس روپے کے حساب سے چینی منگوا کر ساڑھے چھتیس روپے بھی فروخت کریں تو حکومت چھاپے وغیرہ مارسکتی ہے اور پکڑ دھکڑ کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت تاجروں کا خوف دور کرے تو وہ برازیل، چین اور تھائی لینڈ سے چینی منگوا سکتے ہیں جہاں اس کی زیادہ پیداوار ہوتی ہے۔ اور اس کے نرخ تین سے چار روپے تک کم ہوسکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں کیونکہ عالمی منڈی میں بھی چینی کی قیمتیں گزشتہ تین مہینوں میں دگنی ہوچکی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ پر درآمد کی گئی چینی کی قیمت چھتیس روپے فی کلو گرام پڑتی ہے جو ٹرانسپورٹ اخراجات کے باعث پنجاب میں پہنچ کر اڑتیس روپے ہوجاتی ہے۔ الطاف سلیم کے مطابق عالمی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ تیل کی قیمتوں سے جڑا ہے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ سے چینی کی کمی ہوگئی اور اس کی قیمتیں بھی تقریباً دگنا ہوگئی ہیں۔ ہوا یوں کہ پٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں بڑھیں تو دنیا کے سب سے بڑے چینی پیدا کرنے والے ملک برازیل نے گنے سے چینی کے بجائے ایتھونول (الکوحل) بنانا شروع کردیا جسے پٹرول میں ملایا جاتا ہے تاکہ اس کی قیمت کم رکھی جاسکے۔
الطاف سلیم کہتے ہیں کہ برازیل کے کارخانے چینی اور الکوحل دونوں بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور گنے کے رس سے براہ راست الکوحل بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برازیل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو دیکھ کر چینی یا الکوحل بنانے کا فیصلہ کرتا ہے اور اس سیزن میں انہوں نے الکوحل بنانے کو ترجیح دی کیونکہ یہ سستی بنتی ہے۔ برازیل کی وجہ سے عالمی منڈی میں چینی کی کمی ہوئی تو اس کی قیمتیں تقریبا ساڑھے تین سو ڈالر فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر چار سو ڈالر پر جا پہنچیں جو کرایہ ملاکر پاکستان میں ساڑھے چار سو سے پونے پانچ سو ڈالر فی ٹن پڑتی ہے۔ الطاف سلیم کہتے ہیں کہ پاکستان میں مل مالکان عالمی منڈی کے نرخ دیکھ کر چینی کی قیمت مقرر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت چینی کی ملوں کو کسی خاص کم نرخ پر چینی بیچنے کا پابند کرے گی تو ہوسکتا ہے وہ ملیں بند کردیں اسلیے بہتر یہ ہے کہ حکومت چینی کی رسد کو بڑھانے پر توجہ دے۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمت بائیس روپے پر تو واپس تو نہیں آسکتی البتہ حکومت صحیح وقت پر درآمد کی حوصلہ افزائی کرے تو قیمت چھتیس سے سینتیس روپے فی کلو گرام پر مستحکم ہوسکتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ چینی کی زیادہ قیمتیں ادا کرنے سے عوام ساٹھ سے ستر ارب روپے زیادہ ادا کریں گے تو وہ کس کی جیب میں جائیں گے؟ بڑے زمیندار، مل مالکان اور بڑے تاجروں کی جیب میں؟ | اسی بارے میں سندھ: گنے کے نرخ بڑھنے سے ملیں بند19 December, 2005 | پاکستان بھارت سے چینی بھی آگئی07 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||