بھارت سے چینی بھی آگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بکروں کے بعد بھارت سے اب انیس سو مِیٹرک ٹن چینی بھی لاہور پہنچ گئی ہے جو بدھ کو ریلوے اسٹیشن لاہور پر اتاری گئی۔ چار سال پہلے سنہ دو ہزار میں آخری بار پاکستان نے بھارت سے چینی درآمد کی تھی۔ چینی درآمد کرنے والی فرم کے مالک رانا ایوب نے کہا کہ بھارت سے آنے والی چینی کا دانہ موٹا ہے اور رنگ سفید۔ انہوں نے بتایا کہ یہ احمد آباد گجرات کی چینی ہے جو ایل سی کھولنے کے صرف دس دن بعد لاہور پہنچ گئی ہے۔ اس وقت لاہور میں پرچون میں چینی کی قیمت اٹھائیس روپے فی کلوگرام ہے جبکہ پنجاب میں چینی کا ایکس مل نرخ پچیس روپے اسی پیسے سے چھبیس روپے اسی پیسے فی کلوگرام تک چل رہا ہے۔ چینی درآمد کرنے والے امپورٹر رانا ایوب کا کہنا ہے کہ وہ سوا چھبیس روپے میں یہ چینی لاہور کی تھوک منڈی میں پہنچائیں گے جبکہ اس وقت اس معیار کی پاکستانی چینی کا نرخ تھوک میں سوا ستائیس روپے ہے۔ یوں ان کے مطابق چینی کے نرخ میں ایک روپے فی کلوگرام کمی آئے گی۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے بھی چینی کا نرخ کم کرنے کے لیے اپنے اسٹاک سے پچاس ہزار ٹن چینی کُھلی مارکٹ میں فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امپورٹر نے بتایا کہ بھارت سے چینی درآمد کا سارا عمل پندرہ دن میں مکمل ہوا جبکہ اتنی دیر بھی سینٹرل بیورو آف ریوینیو (سی بی آر) کے اجازت نامہ (ایس آر او) کی تاخیر اور اسٹیٹ بنک کی اجازت میں تاخیر سے لگی۔ امپورٹر رانا ایوب کے مطابق بھارت سے چینی منگوانے کا یہ تجربہ ان کے لیے خوشگوار ہے کیونکہ چینی کا معیار ان کی توقع سے بڑھ کر ہے۔ پاکستان میں چینی کی مانگ زیادہ اور رسد کم تھی جس سے چینی کی فروخت پر سٹہ کا کاروبار ہورہا تھا۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے بھارت سے چینی کی درآمد کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا اس سے آئندہ سیزن میں ملک میں چینی بنانے کے لیے گنے کی پسائی شروع کرنے میں دیر واقع ہوسکتی ہے جس سے کاشتکاروں کو بھی نقصان ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||