BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 December, 2005, 14:57 GMT 19:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: گنے کے نرخ بڑھنے سے ملیں بند

گنا
سندھ میں گنے کی کٹائی شوگر ملوں کے چلنے سے مشروط ہوتی ہے
پاکستان کے صوبے سندھ میں صوبائی حکومت کے خلاف اٹھائیس شوگر ملیں بند کردی گئی ہیں جس وجہ سے ایک طرف ہزاروں مزدور فارغ بیٹھے ہیں اور دوسری طرف گندم کی بوائی شروع نہیں ہوسکی ہے۔

صوبائی حکومت نے گنے کے کاشتکاروں کے احتجاج کی دھمکی کے بعد گنے کا نرخ ساٹھ روپے فی چالیس کلو مقرر کیا تھا جس پر شگر ملز مالکان ناراض ہیں۔

سندھ میں گنے کی کٹائی شوگر ملوں کے چلنے سے مشروط ہوتی ہے۔ اس سیزن میں شوگر ملز نے بیس نومبر سے کرشنگ شروع کردی تھی۔

حکومت نے سیزن کے لیے اڑتالیس روپے فی چالیس کلو نرخ مقرر کیا تھا مگر بعد میں اس میں بارہ روپے کا اضافہ کردیا ہے۔

پاکستان میں زرعی اجناس میں صرف گنے کا کم سے کم نرخ مقرر کرنے کے اختیارات صوبائی حکومت کو ہے جبکہ باقی تمام اجناس کے نرخ وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے۔

پاکستان شوگر ملرز ایسوسی ایشن سندھ زون کے صدر عبدالواجد آرائیں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت صوبے بھر کی اٹھائیس ملز بند ہیں جس سے نہ صرف ہمیں بلکہ حکومت اور کاشتکاروں کو بھی نقصان ہو رہا ہے جبکہ ان کا نقصان تو کروڑوں روپے میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شوگر ملز کی صنعت کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک سیزن میں دو نوٹیفیکیشن جاری کیے گئے ہوں۔ حکومت نے اس سے قبل اڑتالیس روپے فی من گنے کا نرخ مقرر کیا تھا۔ اب اس میں بارہ روپے کا اضافہ کردیا ہے۔

عبدالواجد آرائیں کے مطابق چینی کی قیمت پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ آج کل چینی تیس روپے کلو ہے۔ جب کرشنگ سیزن ختم ہوگی تو یکدم قیمتیں کم ہوجائیں گی۔’اس صورتحال میں ہم کس طرح ساٹھ روپے نرخ دے سکتے ہیں؟‘۔

انہوں نے بتایا کہ فی شوگر ملز میں آٹھ سو مزدور کام کرتے ہیں۔ ’ہڑتال کی وجہ سے ان کے گھر میں چولھا نہیں جلتا شگر ملز کے جو شیئر ہولڈر ہیں وہ بھی پریشان ہیں۔ حکومت کو ان کا بھی خیال رکھا چاہیے‘۔

عبدالواجد نے بتایا کہ صوبائی حکومت میں بڑے زمینداروں کی اکثریت ہے جس وجہ سے وہ مرضی کے فیصلے کروانے میں کامیاب جاتے ہیں مگر حکومت کو صنعت کاروں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چھتیس سے سینتیس لاکھ ٹن چینی کی پیدوار ہوتی ہے جس میں سے سندھ میں آٹھ سے نو لاکھ ٹن چینی بنتی ہے جبکہ ملک کی ضرورت چالیس لاکھ ٹن ہے۔

گنے کی کاشت میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے

دوسری جانب سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے صدر سید قمرزمان شاہ کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان ہڑتال کرکے اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ ان کے رویے کی وجہ سے پہلے ہی گنے کی کاشت میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔

قومی اسمبلی کے ممبر اور کاشتکار عبدالغنی ٹاپر کا بھی کہنا ہے کہ پانچ لاکھ ایکڑ زمین پر گنے کی فصل تیار کھڑی ہے۔ اگر اس کی کٹائی نہیں ہوئی تو کاشتکار گندم کی بوائی بھی نہیں کرسکیں گے۔

شوگر ملرز ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ تینوں فریق حکومت ، کاشتکار اور شوگرملرز کے مالکان مل کر بیھٹیں اور ایک پالیسی بنائیں جس کے بعد ہی یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔

واضح رہے کہ پاکستان میں زرعی اجناس میں صرف گنے کا کم سے کم نرخ مقرر کرنے کے اختیارات صوبائی حکومت کو ہیں جبکہ باقی تمام اجناس کے نرخ وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے۔

اسی بارے میں
بھارت سے چینی بھی آگئی
07 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد