مہنگائی کی نئی لہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان اور پٹرولیم مصنوعات میں زبردست اضافہ کا اعلان ساتھ ساتھ کیا گیا ہے جس کے ملکی سیاست پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ اگست اور ستمبر میں دو مرحلوں میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات سے ہی لگایا جاسکے گا۔ یکم جولائی سے پاکستان کا نیا مالی سال شروع ہوتے ہیں ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آئی ہے جس میں پٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل، قدرتی گیس، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں چھ سے بیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ ملک میں سیمینٹ کی قیمتیں گزشتہ ایک ماہ میں پینتیس فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ گزشتہ ماہ جون میں وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت کے وسائل میں ایک سو ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ دکھایا گیا تھا جسے جمع کرنے کے لیے کوئی نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے تھے لیکن اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے یہ معاملہ قدرے صاف ہوگیا ہے کہ ان اضافی وسائل کا ایک بڑا حصہ کہاں سے آئے گا۔ ماہرین معیشت کے مطابق ملک میں پہلے ہی افراظ زر میں اضافہ کی شرح خود حکومت کے مطابق تقریبا دس فیصد ہے اور اب اس میں مزید اضافہ ہوجائے گا کیونکہ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے دالیں، سبزیاں اور پھل بھی مہنگے ہوجائیں گے۔ ہفتہ کی صبح گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے کراچی میں اعلان کیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد اندرون ملک نقل وحمل کی ٹرانسپورٹ، ٹرک وغیرہ، کے کرایوں میں پندرہ سے بیس فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس اعلان سے پنجاب ارو سرید سے کراچی جانے والی ضروری استعمال کی اشیا اور کراچی کی بندرگاہ سے شمال میں جانے والی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ دوسری طرف پاکستان ریلوے کے ذرائع کے حوالہ سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اس نے بھی اپنے کرائے سات سے آٹھ فیصد بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ اس کے انجن ڈیزل پر چلتے ہیں۔ تاہم لاہور میں ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی حتمی تصدیق نہیں کرسکتے کیونکہ اسلام آباد کی وزارت ریلوے نے اگر فیصلہ کیا ہے تو اسے آگاہ نہیں کیا۔ جمعہ کو پیٹرول کی قیمتوں میں پٹرول کی قیمتوں کا تعین کرنے والی کمیٹی ’اوگرا‘ نے تین روپے اکتالیس پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں بھی دو روپے اڑسٹھ پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں ڈیڑھ روپے فی لٹر سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اوگرا کے اعلان میں کہا گیا کہ حکومت نے گزشتہ برس مئی سے دسمبر تک جبکہ اس سال مارچ سے اب تک پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جس سے حکومت کو اٹھاون ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ حکومت نے قدرتی گیس کی قیمتوں میں تقریباً چھ سے ساڑھے بارہ فی صد اضافہ بھی کیا ہے مگر اس سے ان گیس صارفین کو مستثنٰی قرار دیا گیا ہے جو ایک سو یونٹ سے کم گیس خرچ کریں گے۔ جمعہ کے روز ہی پی ایس او اور شیل نے فرنس آئل کی قیمتوں میں پونے آٹھ سو روپے فی میٹرک ٹن سے زیادہ کا اضافہ کردیا ہے جس سے سیمنٹ، چینی، ٹیکسٹائل اور دوسرے کارخانوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ دوسری طرف ملک میں سیمنٹ کی قیمتیں بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں اور اس وقت سیمنٹ کی بوری پرچون مارکیٹ میں تقریباً سوا تین سو سے پینتیس روپے کی فروخت ہورہی ہے جو ایک ماہ پہلے دو سو چالیس روپے تھی۔ حکومت نے چند روز پہلے سیمنٹ بنانے والے اداروں سے سیمنٹ کی قیتیں کم کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے لیکن وہ کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہوگئے۔ حکومت کے معاشی مشیر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ اگر سیمنٹ کی قیمتیں کم نہیں ہوئیں تو اس کی برآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگا دی جائے گی۔ گزشتہ روز ہی وفاقی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں آٹا، گندم اور چینی بغیر کسی درآمدی ڈیوٹی کے درآمد کرنے کی اجازت دی ہے اور آٹے اور گندم کی درآمد پر ودہولڈنگ ٹیکس بھی ختم کردیا ہے۔ وزیراغطم شوکت عزیز نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے ملک بھر میں آٹے کے دس کلوگرام کے پچاس لاکھ تھیلے ساڑھے گیارہ روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرے گی۔ تاہم یوٹیلیٹی اسٹورز زیادہ تر شہروں میں واقع ہیں اور آبادی کے بہت ہی مختصر حصہ کو چیزیں فراہم کرسکتے ہیں۔ مقامی حکومتوں کے اگست اور ستمبر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے آنے والی اس مہنگائی کی لہر پر تبصرہ کرتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے بجٹ بے نقاب ہوگیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل نے قومی اسمبلی میں اس اضافہ کے خلاف تحریک التواء جمع کرادی ہے۔ اسمبلی میں بحث و تکرار سے تو امکان یہی ہے کہ کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہ آسکے لیکن اگلے دو ماہ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں مہنگائی کی یہ شدید لہر نتائج کے تعین میں شائد اہم کردار ادا کرے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||