BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 July, 2005, 06:40 GMT 11:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو
پیٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ تین روپے اکتالیس پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں بھی دو روپے اڑسٹھ پیسے فی لیٹر کے اضافے کے فیصلے پر جمعہ سے پاکستان بھر کے پیٹرول اسٹیشنوں پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس اضافے کے ساتھ ہی حکومت نے گیس کے نرخوں میں بھی اضافے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق کمرشل یا تجارتی بنیادوں پر گیس کا استعمال کرنے والوں پر ہو گا۔ اس کا اثر گاڑیوں میں سی این جی گیس استعمال کرنے والے عام صارفین پر بھی پڑے گا۔

ملک کی تاریخ میں ایک ساتھ پیٹرول کے نرخوں میں اتنے بڑے اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بتایا جا رہا ہے۔ اس اضافے کا فیصلہ جمعرات کی رات آئل کمپنیوں کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کا اعلان ایک پریس ریلیز کے ذریعے کیا گیا۔

اس پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے پٹرول کی قیمت تین روپے اکتالیس پیسے کے اضافے کے ساتھ اڑتالیس روپے چورانوے پیسے کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیزل کی قیمت میں بھی دو روپے اڑسٹھ پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جو اب اکتیس روپے چوہتر پیسے فی لیٹر پر فروخت ہو گا۔ جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں ڈیڑھ روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے جو پچپن ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔

کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے گزشتہ برس مئی سے دسمبر تک جبکہ اس سال مارچ سے اب تک پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جس سے حکومت کو اٹھاون ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

پٹرولیم کی قیمتوں کے اضافے سے ملک میں دیگر اشیا کی قیمتیوں میں بھی اضافے کا قوی امکان ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس سے ملک میں افراط زر کی شرح اور بڑھے گی اور روز مرہ کی اشیا میں بھی خاصا اضافہ ہو گا۔

اس کے علاوہ حکومت نے قدرتی گیس کی قیمتوں میں تقریبا چھ سے ساڑھے بارہ فی صد اضافہ بھی کیا ہے مگر اس سے ان گیس صارفین کو مستثنی قرار دیا گیا ہے جو ایک سو یونٹ سے کم گیس خرچ کریں گے۔

گیس کی قیمتوں میں اضافہ سو یونٹ سے زائد گیس خرچ کرنے والے گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے ہے جس میں ہوٹل، فرٹیلائزر کمپنیاں، فیکٹریاں، سی این جی گیس سٹیشن وغیرہ شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد