BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج کے 55 کاروباری ادارے

فوج کا دفتر
افواج پاکستان ’کمرشلائیز، ہوچکی ہیں: حزب اختلاف
وزیردفاع راؤ سکندر اقبال نے منگل کے روز پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا ہے کہ افواج پاکستان کے زیرانتظام جوتوں اور سیمینٹ سے لے کر بیکری اور ٹریول ایجنسی تک کے مختلف شعبوں میں پچپن کاروباری ادارے چل رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں تحریری طور پر پیش کردہ معلومات میں انہوں نے بتایا کہ فوجی فاؤنڈیشن، شاہین فاؤنڈیشن اور بحریہ فاؤنڈیشن کے زیرانتظام چینی ،گیس، بجلی، بینکاری، لیزنگ، انشورنس، ٹریول ایجنسی، موبل آئل، فارمیسی، گیس سٹیشن، پیٹرول پمپ، سیکورٹی گارڈز، کپڑوں اور دیگر شعبوں میں پچپن سے زیادہ کارخانےاور ادارے چل رہے ہیں۔

فرحت اللہ بابر نے بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ پاکستان کی افواج فلاح وبہبود کے نام پر ملک کا بڑا صنعتی اور تجارتی گروپ بن چکا ہے۔

حزب مخالف کے رکن نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے اداروں سے حکومت کو کتنا ٹیکس ملتا ہے؟

انہوں نے الزام لگایا کہ افواج پاکستان ’کمرشلائیز‘ ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ان کی پیشہ وارانہ اہلیت اور کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت حزب مخالف کا مؤقف رد کرتے ہوئے کہتی رہی ہے کہ ایسے ادارے ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم ہوتے ہیں۔ فوجی ترجمان سے رائے جاننے کے لیے کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

وزیر دفاع نے تحریری طور پر پیش کردہ معلومات میں تینوں مسلح افواج کی ’فاؤنڈیشنز‘ کے زیرانتظام تمام صنعتی ، تجارتی اور کاروباری اداروں کی فہرست بھی پیش کی ہے جس میں ایک درجن سے زیادہ ادارے سن ننانوے سے لے کر رواں سال تک قائم ہوئے ہیں۔

راؤ سکندر اقبال کی ایوان میں پیش کردہ معلومات کے مطابق افواج کے زیرانتظام پچپن صنعتی، کاروباری اور تجارتی اداروں کے علاوہ دو سو نوے سے زیادہ ہسپتالوں سمیت طبی ادارے اور یونیورسٹی اور کالجز سمیت مختلف تعلیمی ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔

فرحت اللہ بابر کے ایک اور سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے بتایا ہے کہ کراچی میں پاک فضائیہ کے ’فیصل بیس‘ میں سات اعشاریہ تین ایکڑ زمین پچیس برس کی لیز پر ایک پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سلسلے’سٹی سکول‘ کو دی گئی ہے اور اب اس کی منظوری وزارت دفاع سے لی جا رہی ہے۔ لیز پر ایک نجی ادارے کو دی گئی زمین کے بدلے میں فضائیہ کو کیا ملا ہے؟ اس کا جواب وزیر نے نہیں دیا۔

فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ وہ یہ سوال گزشتہ ایک برس سے پوچھ رہے ہیں اور ہر مرتبہ معلومات اکٹھی کرنے کا بہانہ بنا کر انہیں ٹالا جارہا تھا اور اب جب جواب آیا ہے تو وہ بھی ادھورا۔ انہوں نے کہا کہ چھ برس قبل یہ زمین دی گئی ہے اور اب اس کی منظوری لی جارہی ہے۔

سینیٹر صفدر عباسی کے سوال پر وزیر دفاع نے ایوان کو بتایا ہے کہ وزارت دفاع میں سن دوہزار سے لے کر اب تک پچپن حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے ایوان کو وزیردفاع نے بتایا تھا کہ ملک کے مختلف شہروں میں تینوں مسلح افواج کو رہائشی مقاصد کے لیے پونے دو لاکھ کنال زمین فراہم کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد