پیٹرول کی قیمت میں پھر اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے۔ قیمتوں کا تعین کرنے والی کمیٹی نے رات گئے اس ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ پیر اٹھائیس فروری کو کراچی میں اجلاس کے بعد رات دیر سے’ آئل ایڈوائزری کمیٹی، کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ ستاون پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اب پیٹرول کی قیمت فی لٹر تینتالیس روپے چھیانوے پیسے مقرر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ دو ہفتے قبل پیٹرول کی قیمت میں دو روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ ہائی آکٹین پیٹرول جسے ’ایچ او بی سی‘ بھی کہا جاتا ہے، کی قیمت میں فی لٹر ایک روپیہ باسٹھ پیسے اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت اڑتالیس روپے چرانوے پیسے مقرر کی گئی ہے۔ ہائی آکٹین کی قیمت پندرہ دن قبل تقریبا پونے تین روپیہ فی لٹر کے حساب سے بڑھائی گئی تھی۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں چورانوے پیسے فی لٹر اضافے کے ساتھ نئی قیمت تقریبا اٹھائیس روپے مقرر کی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں دو ہفتے قبل ایک روپیہ فی لٹر پہلے ہی اضافہ کیا گیا تھا۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت اب پچیس روپے سینتیس پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس بار ایک روپیہ چار پیسہ اس کی قیمت میں فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ پندرہ دن پہلے بھی لائٹ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ اکتالیس پیسہ فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتوں کا’ڈی ریگولرائیز، ہونے کے بعد ہر پندرہ روز کے بعد عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی مناسبت سے نئے سرے سے تعین کیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پیٹرولیم کے شعبے سے وابستہ نجی شعبے کی کمپنیاں کرتی ہیں اور حکومت کہتی ہے کہ انہیں ان کمپنیوں پر ضابطہ حاصل نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حزب مخالف نے پارلیمان میں سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان پر عوام دشمن پالیسیاں اپنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ حکومت نے حزب مخالف کی تنقید اور الزامات مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اب تک پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے تیس ارب روپوں سے زائد ’سبسڈی‘ دے چکی ہے اور مزید ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||