BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 December, 2005, 20:41 GMT 01:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: چار کروڑ لوگوں کی معیشت

خریداری کے بعد
بڑے سٹوروں، ہوٹلوں اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے
اس سال پاکستان کی سولہ کروڑ آبادی میں سے چار کروڑ امیر اور متوسط طبقہ کے افراد کے پاس کاروں اور کریڈٹ کارڈوں میں جبکہ باقی بارہ کروڑ کے لیے آٹے، بجلی، ٹرانسپورٹ اور مکان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

حکومت کے معاشی اعداد و شمار کا زیادہ اثر تقریبا چار کروڑ لوگوں پر پڑتا ہے۔ اس سال جنوری میں وزیراعظم شوکت عزیز نے کراچی میں ایک بنک کی نئی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ دو ہزار پانچ پاکستان کی معیشت کے لیے زبردست ترقی کا سال ہوگا کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر شعبہ میں چیزوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

تاہم صورتحال کچھ یوں ہے کہ کپاس اور گنے کی فصل کی پیداوار میں کمی، بڑی صنعتوں کی ترقی کی رفتار میں سستی اور تجارتی خسارہ میں زبردست اضافہ کے ساتھ پاکستان کی معیشت کی ترقی کی شرح اس مالی سال میں سات فیصد کے ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ دو مالی سالوں میں اس کے بڑھنے کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ تھی۔

ملک کی مجموعی پیداوار میں بڑی صنعتوں کی پیداوار کا ایک چوتھائی سے زائد حصہ ہے۔گزشتہ دو مالی سالوں میں بڑی صنعتوں کی ترقی کی رفتار بالترتیب اٹھائیس اور تیرہ فیصد تھی لیکن اس برس کم ہوکر ساڑھے سات فیصد رہ گئی ہے۔ ظاہر ہے پیداوار کی کمی سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور بے روز گاری بڑھے گی جو پہلے ہی مجموعی افرادی قوت کے آٹھ فیصد سے زیادہ ہے۔

اس سال عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پاکستان کا تجارتی خسارہ بہت بڑھ گیا ہے جو اس وقت تک تقریبا پانچ ارب ڈالر ہے اور مالی سال کے اختتام تک نو ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔

درآمدات اور برآمدات میں اس فرق کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائر استعمال کرنے پڑیں گے یا قرضہ لینا پڑے گا۔ اب تک حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کو اپنی بڑی کامیابی بتاتی آئی ہے۔

تازہ سرکاری اعداد و شمار یہ ہیں کہ ملک میں افراط زر کی شرح نو فیصد سے کم ہوکر سات فیصد ہوگئی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں مہنگائی کی شرح تقریبا پانچ فیصد تھی۔ اس دوران پٹرول کی قیمتوں میں خاص طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں مختلف طرح کی گاڑیوں کی تعداد کا اندازہ پچیس لاکھ ہے جس میں سے دس لاکھ گاڑیاں پٹرول کی بجائے سی این جی ایندھن پر منتقل ہوچکی ہیں۔

جب سے صدر جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار شروع ہوا ہے شوکت عزیز پہلے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اور اب وزیراعظم کے طور پر ملک کی معاشی پالیسی چلارہے ہیں۔

انہوں نے بنکنگ کے شعبہ میں اور حکومت کی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ہیں۔ اس عرصہ میں افراط زر کی شرح کم ہوئی، زر مبالہ کے ذخائر میں تاریخی اضافہ ہوا اور ملک کی معاشی ترقی کی رفتار بڑھی۔

تاہم اس معاشی ترقی کے فوائد عام لوگوں کو نہیں ملے۔ یہ عام لوگ ملک کی سولہ کروڑ آبادی میں بارہ کروڑ (پچہتر فیصد) ہیں جو یا تو غریب ہیں (تیس روپے روزانہ فی کس) یا غربت کی سطح سے بھی نیچے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار اعتراف کرتے ہیں اسی کی دہائی سے لے کر اب تک ملک میں غربت اور امیر اور غریب کے درمیان فرق میں اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بنک کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے گورنر عشرت حسین کے بقول ملک میں تین کروڑ لوگوں پر مشتمل متوسط طبقہ ہے۔

معاشی سروے کی سالانہ رپورٹ میں معاشی عدم مساوات کے عنوان سے ایک باب شامل ہوا کرتا تھا جس میں مختلف طبقوں کی آمدن اور ان میں فرق سے متعلق اعداد و شمار شامل ہوتے تھے۔ اس سال حکومت نے جو سروے رپورٹ جاری کی ہے اس میں سے یہ باب ہی حذف ہی کردیا گیا ہے۔ شاید ان کا خیال یہ ہے کہ غربت اور عدم مساوات کم نہ کی جاسکے تو اس کا تصور ختم کردیا جائے۔

گزشتہ دو سے اڑھائی برسوں کی معاشی ترقی کے ثمرات شہری متوسط طبقہ اور زیادہ آمدن والے لوگوں تک پہنچے ہیں۔ اس کا اظہار سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی گاڑیوں اور شہروں میں کھلنے والے بڑے بڑے بین الاقوامی برانڈز کے سٹورز اور ریستورانوں سے ہوتا ہے۔ ٹی وی چینلز اور اخبارات بنکوں، موبائل فون، بڑی کاروں، کریڈٹ کارڈز اور مہنگی الیکٹرانک اور دوسری گھریلو اشیا کے اشتہاروں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

حکومت نے امیروں کے لیے دولت ٹیکس ختم کیا، انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی، بڑی کاروں پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی جبکہ عام استعمال کی اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھایا جو ہر آدمی کو خواہ امیر ہو یا غریب دینا پڑتا ہے۔

حکومت کی ٹیکس پالیسی صاحب جائیداد لوگوں کےحق میں ہے۔ جائیداد کے لین دین پر کوئی کیپیٹل گین ٹیکس نہیں ہے۔ جائیداد کی فائلوں کی خرید و فروخت کا اربوں روپے کا کاروبار کسی قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔

کراچی، راولپنڈی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں گزشتہ تین برسوں میں زمین اور مکانوں کی قیمتوں میں پانچ سو سے ہزار فیصد اور کئی جگہوں پر جیسے ڈیفنس سوسائٹیوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ نچلے اور متوسط طبقہ کے آدمی کے لیے اپنی زندگی بھر کی بچت سے ایک پانچ مرلہ کا مکان بنانا بھی ممکن نہیں رہا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پانچ کروڑ سے زیادہ ایسےلوگ ہیں جن کی آمدن تیس روپے فی کس روزانہ سے بھی کم ہے۔ ان لوگوں کے لیے انسانی حقوق، بچوں کے حقوق، جبری مزدوری کے خاتمہ اور مزدوروں کے حقوق کے نام پر کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیمیں ہیں یا روٹی کپڑا دے کر جہاد اور مذہب کی تبلیغ کرنے والی شدت پسند تنظیمیں۔

66معاشی ترقی کا واہمہ
’گیارہ ستمبرکے بعد کا ہنی مون ختم ہوچکاہے‘
66دن پھرے امیروں کے
معیشت قدرے بہتر لیکن صرف امیروں کے لیے
66بلوچ کہانی: 16
بلوچوں کی معاشی زندگی پر اثرات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد