کوئٹہ: بجلی کی بندش پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں زمینداروں نے بجلی کی بندش کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے سامنے جمعرات کو احتجـاجی مظاہرہ کیا۔ اسمبلی کے اندر اراکین نے ڈیرہ اسمعیل خان سے ژوب کے راستے بجلی کی فراہمی اور بلوچستان میں نیشنل گرڈ قائم کرنے کے لیے قرار دار پاس کی۔ کوئٹہ شہر پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے طلباء نے شناختی کارڈ کے محکمے کے خلاف احتجاج کیا جبکہ سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے جلسہ منعقد کیااور جلوس نکالا۔ شہر میں ٹریفک کافی دیر تک جام رہی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار بڑی تعداد شہر میں تعینات تھے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بجلی کے کھمبوں پر حملوں کی وجہ سے کوئی ڈیڑھ ماہ سے ٹیوب ویلوں کو بجلی فراہم نہیں کی جارہی جس وجہ سے صوبے کے اندر پانی کی قلت پائی جاتی ہے۔ زمینداروں کا کہنا ہے بجلی کی بندش اور پانی کی کمی کی وجہ سے فصلیں اور باغات تباہ ہو رہے ہیں اور زمیندار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین تاج آغا نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ بجلی کے کھمبوں پر حملے کون کر رہا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں بولان میں دو افراد کو رنگے ہاتھوں حراست میں لیا گیا تھا جنہوں راتوں رات بھگا دیا گیا ہے اور لیویز (کمیونٹی پولیس ) کے دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے کھمبوں کی حفاظت کے لیے فوج کی خدمات حاصل کی جائیں۔
خاران سے ایک زمیندار سردار احمد خان سرپرہ نے کہا کہ خاران سبی خضدار چاغی میں گندم زیرہ پیاز اور سبزیات مکمل تباہ ہو گئے ہیں جبکہ باغات کو اگر دس دن کے اندر پانی نہ ملا تو بارہ سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں فوجی کارروائی بند کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے وگرنہ صوبے کے اسی فیصد لوگوں کا انحصار زراعت پر ہے اور یہ لوگ اجڑ جائیں گے۔ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینیئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ایک طرف لوگ پانی کی کمی کی وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں دوسری جانب دھماکے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ صوبے میں جاری فوجی کارروائی کے رد عمل میں ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ متحدہ مجلس عمل نے وفاقی حکومت سے رابطہ قائم کیا ہے کہ یہ کارروائی روکی جائے کیونکہ اس سے صوبے میں مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ سینیئر صوبائی وزیر نے زمینداروں کو بجلی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی لیکن زمینداروں کا کہنا ہے انہیں پہلے بھی یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں لیکن عمل درآمد نہیں ہوا اگر بجلی فراہم نہیں کی گئی تو وہ سخت اقامات کریں گے جس کی زمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ ادھر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اراکین نے بلوچستان اسبملی میں قرار داد پیش کی ہے کہ صوبہ سرحد کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب کے راستے بلوچستان میں پانچ سو میگا واٹ کا نیشنل گرڈ سٹیشن قائم کیا جائے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ، وزیر کے گھر پر راکٹ حملہ25 February, 2006 | پاکستان کوئٹہ: بم دھماکہ، دو بچیاں ہلاک03 March, 2006 | پاکستان کوئٹہ، کالج کے قریب بم دھماکہ15 March, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں حزب اختلاف کا مظاہرہ16 March, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں گیس پائپ لائن دھماکہ20 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||