BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 March, 2006, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ میں حزب اختلاف کا مظاہرہ

بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل بھی مشترکہ مظاہرہ کر چکی ہے
بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل بھی مشترکہ مظاہرہ کر چکی ہے
کوئٹہ میں جمعرات کو حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جبکہ مچھ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے بجلی کو پول گرا دیے ہیں جس سے بلوچستان میں تین سو میگا واٹ بجلی کی کمی پیدا ہوگئی ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کی قیادت میں اراکین نے اسمبلی کی عمارت سے گورنر ہاؤس تک مارچ کیا اور گورنر ہاؤس کے سامنے نعرہ بازی کی ہے۔

حزب اختلاف کے اراکین نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منعقد کرانے، بلوچستان میں مبینہ فوجی کارروائی بند کرنے اور گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان جماعتوں میں نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین شامل تھے۔

ادھر جمعرات اور بدھ کی درمیانی شب کوئٹہ سے کوئی ستر کلومیٹر دور جنوب میں مچھ کے علاقے میں نا معلوم افراد نے بجلی کے تین پولز پر حملہ کیا ہے جس سے ایک پول مکمل طور پر تباہ ہوا ہے جبکہ دو پولز کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

کوئٹہ میں بجلی فراہم کرنے کے محکمہ کے ترجمان جبریل خان نے بتایا ہے کہ اس حملے سے تین سو میگا واٹ بجلی کی کمی پیدا ہو گئی ہے جس وجہ سے اب لوڈ شیڈنگ کرنا پڑے گی۔

انھوں نے کہا کہ ان کھمبوں کی مرمت کا کام ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ ان دھماکوں سے مجموعی طور پر بیس ملین روپے روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ کھمبوں اور تاروں کا نقصان کوئی دو ملین روپے تک کا ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ روز کوہلو سے لوگوں نے بتایا ہے کہ مسلح قبائل اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں فورسز کا جانی نقصان بھی ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پراس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ادھر ڈیرہ بگٹی سے بھی اسی طرح کی جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن ان کی تصدیق نہیں کی جا رہی۔

دریں اثناء ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام میرک بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ مچھ میں بجلی کے کھمبوں پر حملوں کی ذمہ داری وہ بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قبول کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے آج ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقے کرمو وڈھ میں فرنٹیئر کور کی ایک چوکی پر راکٹ داغے گئے ہیں جس سے ایف سی کے اہلکاروں کا جانی نقصان ہوا ہے۔

جبکہ گزشتہ روز لہڑی کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی جس سے فورسز کا جانی نقصان ہوا تھا۔انھوں نے کہا کہ ان واقعات کی ذمہ داری وہ بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قبول کرتے ہیں۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ کرمو وڈھ میں ان کے تین اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں جنہیں موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد