دھماکہ ’حکومتی غفلت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے کہا ہے کہ کراچی سانحہ حکومتی غفلت کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت اس میں ملوث ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں بحث سمیٹتے ہوئے حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف نے جمعرات کو معمول کی کارروائی معطل کرکے منگل کو کراچی میں عید میلاد النبی کے جلسے میں بم دھماکے کے نتیجے میں سینتالیس افراد کی ہلاکت کے واقعے پر بحث کی۔ مولانا فضل الرحمٰن سمیت حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے اراکین نے اس واقعے کی مذمت کی اور حکومت پر غفلت برتنے کا الزام لگاتے ہوئے شدید نکتہ چینی کی۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے بعض اراکین نے کہا کہ سنی تحریک والے پہلے سے حکومتی اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ پر اپنے کارکنوں کے اغواء اور مارپیٹ کے الزامات لگاتے رہے ہیں اور انہوں نے حکومت سے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر سندھ اور سندھ کی صوبائی حکومت کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس واقعے کی ایوان کے دونوں جانب کے اراکین نے سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ بم دھماکہ کرنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا۔ بیشتر اراکین نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے حزب مخالف پر زور دیا کہ وہ اس سانحے پر سیاست کرنے کے بجائے متحد ہوکر حکومت کی مدد کریں تاکہ اصل ملزمان تک پہنچا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ سٹیج سلامت ہے، کوئی گڑھا نہیں پڑا اور مرنے والوں کے جسم سے دھماکے دار مادہ کے ٹکڑے بھی ملے ہیں اور ان تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا۔
وزیر داخلہ کے بیان سے قبل تقاریر میں متحدہ مجلس عمل کے کئی اراکین نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر اِسے خود کش حملہ قرار دے کر جان چھڑا رہی ہے اور مغربی دنیا میں اسلامی انتہا پسندی کے تاثر کو تقویت دے رہی ہے۔ آفتاب شیر پاؤ نے ان کے الزامات کو مسترد کردیا اور بتایا کہ ایک سر ملا ہے اور گمان ہے کہ وہ خود کش بمبار کا ہی ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت اس سر کی ’پبلسٹی‘ کر رہی ہے تاکہ کوئی اسے پہچانے۔ اس جلسے کے اہتمام کے لیے حکومت اور جماعت اہل سنت کے رہنماؤں کے درمیاں کافی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق گیارہ اپریل کو دو بجے دو پہر بم ڈسپوزل سکواڈ نے سٹیج چیک کرکے سیکورٹی کا انتظام سنی تحریک کے حوالے کیا۔ انہوں نے امدادی اداروں کے کردار کو بھی سراہا اور بتایا کہ تیس ہزار کے اس مجمع میں تمام ہلاک شدگاں اور زخمیوں کو بیس سے پچیس منٹ کے اندر ہسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت سینتالیس ہلاک شدگاں کے ورثا اور اکاسی زخمیوں کو معاوضہ بھی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق بتیس زخمی اب بھی مختلف ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کابینہ کی بریفنگ میں بتایا تھا کہ نوے افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بحث کے دوران عمران خان نے کہا کہ صدر، وزیراعظم اور کور کمانڈر پر حملے کے ملزمان ایک ہفتے میں گرفتار ہوجاتے ہیں لیکن کراچی میں چُن چُن کر علما کو قتل کرنے اور عام آدمیوں کو مارنے والے آخرگرفتار کیوں نہیں ہوتے۔ اس بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسی بات نہیں حکومت تفتیش اور گرفتاریوں میں امتیاز نہیں برتتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے ملزمان کو حکومت ڈھونڈ نکالے گی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی جمعرات کی شام تک جاری رہی اور اس اہم معاملے پر بحث کے دوران تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں ایک سو بھی بمشکل موجود تھے۔ مزید کارروائی جمعہ کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔ | اسی بارے میں لاہور میں ہڑتال، کراچی بھی بند13 April, 2006 | پاکستان کراچی میں فوج طلب کر لی گئی13 April, 2006 | پاکستان کراچی دھماکہ، ایک شخص گرفتار13 April, 2006 | پاکستان یہ کِس کا سر ہے؟ 12 April, 2006 | پاکستان کراچی میں احتجاج، لاہور بھی ہڑتال میں شامل12 April, 2006 | پاکستان ’عوام کے زخموں پر پھایہ کون رکھے‘12 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||