سندھ حکومت کو بحران کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں مخلوط حکومت کو ایک مرتبہ پھر بحران کا سامنا ہے اور حکومت میں شامل اتحادیوں میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ حکمران اتحاد کی اہم جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے پیر کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا جس وجہ سے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور ایم کیو ایم دونوں نے اختلافات اور خدشات کا اعتراف کیا ہے۔ یہ نئی صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر پرویز مشرف کراچی میں موجود ہیں۔ پیر کے روز صوبائی اسمبلی کا اجلاس دو روز کے وقفے کے بعد منعقد ہوا جس میں ایم کیو ایم کے صرف دو اراکین فیصل سبزواری اور شاکر علی نے شرکت کی جبکہ دیگر ایم پی ایز اپنے چیمبر میں بیٹھے رہے۔ اس سے قبل جمعہ کو بھی ایم کیو ایم کے صرف دواراکین نے اجلاس میں شرکت کی اور کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر تک ملتوی کردیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے اسمبلی میں خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ایم کیو ایم کو جن معاملات پر اختلافات اور خدشات ہیں وہ ان سے باخبر ہیں۔ ’پہلے وہ اظہار کریں، پھر میں اظہار کروں گا‘۔ تاہم انہوں ان معاملات کی نشاندہی نہیں کی صرف یہ کہا کہ متحدہ کا اجلاس میں نہ آنا اچھا رویہ نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ہماری حکومت ہے اپوزیش ہمارا ساتھ دے جب ان کی حکومت آئے گی تو ہم ان کا ساتھ دیں گے‘۔ مختلف حلقوں کے مھابق کراچی کی پرانی اور قدیم بستیوں کو مسمار کرنے پر حکومت اور متحدہ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ارباب رحیم نے کہا کہ کسی قدیم گاؤں کو مسمار کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ قدیمی بستیوں کے سروے کے لیئے بنائی گئی حکومتی کمیٹی میں اپوزیشن کو بھی شامل کرنے کو تیار ہیں۔ دوسری جانب متحدہ کے رکن اسمبلی محمد حسین نے تصدیق کی ہے کہ کچھ معاملات پر متحدہ کے ارباب غلام رحیم سے اختلافات ہیں جو کافی عرصے قبل حل ہونے جانے تھے، مگر ابھی تک حل نہیں ہوسکے ہیں۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والےسینئر صوبائی وزیر سردار احمد کا بھی کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کے اختلافات اور تحفظات موجود ہیں، اس ہی حوالے سے ان کی پارٹی نے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اختلافات کے خاتمے کے لیئے پارٹی وزیراعلیٰ سے مذاکرات کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سندھ میں صوبائی حکومت کا اہم حصہ ہے۔ اس کے پاس ایک سو اڑسٹھ نشستوں کے ایوان میں بیالیس نشستیں ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں اس کے اٹھارہ ارکان اسمبلی ہیں۔ قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہیئے۔ اپنے چیمبر میں پریس کانفرنس کرتے انہوں نے کہا کہ ارباب غلام رحیم اکثریت کی حمایت کھوچکے ہیں اس لیئے انہیں فوری مستعفی ہونا چاہیئے۔ وزیر اعلیٰ کی تعاون کی اپیل پر انہوں نے کہا کہ ’اس حکومت نے سندھ کے عوام کے خلاف قانون سازی کی ہے جس کے لیئے عوام میں غصہ موجود ہے۔ لوگوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھائے ہوئے ہیں اگر یہ ایوان سے باہر نکلیں گے تو ان پر پتھر برسائے جائیں گے۔ دریں اثنا گورنر کے حکم پر صوبائی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل اتوار کی شب حزب اقتدار کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی متحدہ نے شرکت نہیں کی تھی۔ صدر پرویز مشرف نے گزشتہ شب متحدہ قومی موومنٹ سے منسلک گورنر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم سے ملاقات کی۔ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ صدر جنرل مشرف سے اختلافات کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں دھماکہ ’حکومتی غفلت نہیں‘13 April, 2006 | پاکستان قوم پرستوں کی اپیل پر جزوی ہڑتال09 May, 2006 | پاکستان ہڑتال: اندرون سندھ کے شہر متاثر رہے12 May, 2006 | پاکستان ’مشرف کے تحت الیکشن قبول نہیں‘15 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||