ارباب کو حکمراں جماعت کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کی مکمل تائید کرتے ہوئے انہیں اتحادی جماعتوں کے ساتھ اختلافات طے کرنے کے لیئے ’فری ہینڈ‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان بدھ کے روز پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ارباب غلام رحیم صوبے کےوزیر اعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کے صوبائی صدر بھی ہیں اور انہیں مرکزی حکومت اور پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ملاقات میں مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین، ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات سید محمود ہاشمی اور سینیٹر عبدالغفار قریشی بھی شریک ہوئے۔ واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں مسلم لیگ اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات شدید ہوگئے ہیں۔ متحدہ کے اراکین صوبائی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کیا تھا اور حکومت کو سندھ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ دونوں اتحادی جماعتوں میں سے کوئی بھی اکیلے طور حکومت قائم نہیں رکھ سکتا اور کسی بھی فریق کی حکومت سے علیحدگی کی صورت میں صوبائی حکومت ٹوٹ سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم نے چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ وہ تمام اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں لیکن کسی کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ یعنی ’ایم کیو ایم‘ کے ساتھ اپنے اختلافات کے بارے میں کھل کر تو بات نہیں کی لیکن یہ واضح کیا کہ وہ وزیراعلیٰ ہیں اور اپنے اختیارات اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کی وزارتوں سے انہیں ’سمریز‘ آتی ہیں اور جو قانون کے مطابق معاملات ہوں وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور کسی کی خواہش پر دستخط نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ فریقین کی گورنر سندھ کے پاس منگل کے روز ملاقات ہوئی تھی لیکن اختلافات ختم نہیں ہوئے اور وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم اسلام آباد آگئے۔ وزیراعلیٰ سندھ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری اور صدر کے با اعتماد سمجھے جانے والے طارق عزیز سے بھی مل رہے ہیں۔ حکمران مسلم لیگ کے ایڈیشنل مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمود ہاشمی پنجاب ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں شریک تھے اور انہوں نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ ایم کیو ایم کراچی کے گرد نواح میں بلوچ اور سندھی آبادیوں کو غیر قانونی قرار دے کر گرانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کا اس پر موقف ہے کہ اگر غیر قانونی آبادیوں کو مسمار کرنا ہے تو پھر بڑی بڑی غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے والی عمارتیں بھی گرائیں۔ واضح رہے کہ اس بارے میں جماعت اسلامی کے اراکین قومی اسمبلی میں بحث کے دوران الزام لگاتے رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کو جہاں سے ووٹ نہیں ملے ان آبادیوں کو وہ غیر قانونی قرار دے کر گرا رہے ہیں۔ ان کے الزامات کی ایم کیو ایم نے سختی سے تردید کی تھی۔ محمود ہاشمی نے بتایا کہ ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ کراچی میں ملازمتیں صرف کراچی کے ڈومیسائیل رکھنے والوں کو دی جائیں جبکہ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ پورے ملک میں کہیں ایسا نہیں ہے اس لیئے اس طرح کے قوانین بنانا وفاق پاکستان اور صوبے کے مفادات کے خلاف ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ سمجھتی ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل ایم کیو ایم زیادہ سے زیادہ اپنے امیدواروں کے لیے نشستیں حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے ایڈیشنل مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمود ہاشمی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے چودھری شجاعت حسین کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایم کیو ایم من مانی کرنا چاہتی ہے اور ہر سمری پر وہ چاہتے ہیں کہ فوری دستخط کردیں اور وہ وزیر اعلیٰ کو ایک ڈاک خانہ بنانا چاہتے ہیں۔ سندھ حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیاں اختلافات کے بارے میں فریقین کا موقف اپنی جگہ لیکن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ارباب اور ایم کیو ایم میں جھگڑا مال پانی کا ہے۔‘ | اسی بارے میں ارباب اور متحدہ اسلام آباد میں23 May, 2006 | پاکستان سندھ حکومت کو بحران کا سامنا22 May, 2006 | پاکستان تیسری اپوزیشن رکن منحرف27 March, 2006 | پاکستان کراچی بستی: مسماری پر تنازعہ06 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||