BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیسری اپوزیشن رکن منحرف

نزہت پٹھان
بینظیر کے پاس مجھے فون کرنے کا بھی وقت نہیں: نزہت
سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مزید ایک رکن صوبائی اسمبلی منحرف ہوگئی ہیں اور انہوں نے حکمران جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی پی پی پی شعبہ خواتین کی رہنما نذہت پٹھان خواتین کی مخصوص نشست پر ممبر اسمبلی منتخب ہوئیں تھی۔ کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پیر کے روز وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے پی پی پی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

نذہت پٹھان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ ستائیس برسوں سے پی پی پی سے منسلک رہی ہیں اور پارٹی کے لئے قربانیاں دیں۔ان کے مطابق جنہوں نے گھر میں صرف بھٹو کا نعرہ سنا ہو اور بینظیر سے عشق کیا ہو ان کے لئے پارٹی چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں گزشتہ چار ماہ سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہوں اور زندگی و موت کی جنگ لڑ رہی ہوں، مگر کبھی بھی بی بی ( بینظیر) یا پارٹی قیادت نے معلوم نہیں کیا کہ میری طبیعت کیسی ہے جبکہ میں نے سب کو کہا تھا کہ مجھ ان کے ساتھ کی ضرورت ہے‘۔

نذہت پٹھان نے کہا کہ ’پی پی پی آج بینظیر بھٹو کی نہیں ناہید خان کی پارٹی ہے۔ جو بڑے لوگوں کی بیٹیاں اور بیویاں ہیں ان کو کمیٹیوں میں بھی اٹھایا جاتا ہے وفد میں بھی شامل کیا جاتا ہے جبکہ ہمیں بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے‘۔

 جب وہ ہسپتال میں تھیں تو انہوں نے اور پارٹی کے صوبائی صدر قائم علی شاہ نے ان کی عیادت کی تھی، اب پارٹی چھوڑنے کے لئے ان کو کوئی نہ کوئی عذر تو چاہئے
نثار کھوڑو

نذہت پٹھان نے بینظیر بھٹو سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پیچھے انہوں پوری زندگی گزار دی، ’مگر ان کے پاس مجھے فون کرنے کا بھی وقت نہیں ہے‘۔

پی پی پی کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد نثار کھوڑو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نذہت پٹھان کے الزامات کو رد کیا اور کہا کہ جب وہ ہسپتال میں تھیں تو انہوں نے اور پارٹی کے صوبائی صدر قائم علی شاہ نے ان کی عیادت کی تھی، ’اب پارٹی چھوڑنے کے لئے ان کو کوئی نہ کوئی عذر تو چاہئے‘۔

نثار کھوڑو کے مطابق نذہت کے فیصلے نے خود ان کے نظریاتی کارکن ہونے کو مشکوک بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نذہت پٹھان جس پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئی تھیں وہ اس سے منحرف ہوگئی ہیں اس لئے ان کو نااہل قرار دینے کے لئے ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ حکومت ممبران کو خود ترغیب دیتی ہے کہ وہ وفادری تبدیل کریں اس سے قبل بھی جن ممبران نے سیاسی وفادری تبدیل کی ہے ان کے خلاف ریفرنس دائر کئے گئے مگر وہ التویٰ کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ نذہت پٹھان خواتین کی نشستوں پر کامیا ب ہونے والی تیسری ممبر ہیں جنہوں نے حکمران جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل پی پی پی ہی کی بانو صغیر اور ایم ایم اے کی سکینہ بانو مسلم لیگ ق میں شامل ہوچکی ہیں۔

اسی بارے میں
’خواتین کو کیا ملا‘
09 March, 2006 | پاکستان
عالمی فورم اور مقامی نعرے
25 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد