BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 March, 2006, 20:04 GMT 01:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی فورم اور مقامی نعرے

سوشل فورم پر احتجاج
تربت سے گمشدہ بلوچ لکھاری ڈاکٹر شریف بلوچ کی والدہ، والد اور بہنوں نے اس موقع کر بھوک ہڑتال بھی کی
عالمی سوشل فورم میں ویسے تو تنقید کا نشانہ عالمی مالیاتی ادارے، سامراج اور امریکی جارحیت ہوتی ہے، مگر کراچی میں ہونے والے عالمی سوشل فورم کے دوسرے روز پاکستان کے اہم ایشوز پر سماجی تنظیموں نے ریلیاں نکال کر دنیا بھر سے آنے والے مندوبین کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

ہفتے کی صبح سے ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوا جو شام تک جاری رہا۔

یہ ریلیاں بلوچستان آپریشن، کالاباغ ڈیم کی تعمیر، جبری مشقت اور اوکاڑہ زرعی فارمز میں مزارعوں پر مظالم کے خلاف نکالی گئیں۔ ساتھ ساتھ امریکی جارحیت کے خلاف اور دنیا میں امن کے لیئے بھی ریلی نکالی گئی۔

فورم کے داخلی دروازے کے سامنے بلوچستان کی سماجی تنظیوں نے احتجاج کیا، مظاہرین پاک فوج کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔

تربت سے گمشدہ بلوچ لکھاری ڈاکٹر شریف بلوچ کی والدہ، والد اور بہنوں نے اس موقع کر بھوک ہڑتال بھی کی۔

ڈاکٹر شریف کی والدہ نسیمہ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ
شریف کو اٹھارہ نومبر کو تربت کے ایک مقامی ہوٹل سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ دو میجروں کی سربراہی میں اہلکاروں نے گرفتاری سے قبل دریافت کیا کہ ڈاکٹر حنیف شریف کون ہے۔ شناخت کے بعد وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شریف کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بلوچستان اور بلوچوں کو ان کا حق دیا جائے۔

نسیمہ بلوچ کے مطابق شریف کی گرفتاری کو چار مہینے ہوگئے ہیں مگر کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں، زندہ ہیں یا ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔

انجمن مزارعین اوکاڑہ کی جانب سے نکالی گئی ریلی کے مقررین کا کہنا تھا کہ مزارعوں پر آج بھی مظالم جاری ہیں اور اوکاڑہ کی زمین مالکانہ حقوق پر مزارعوں کو دی جائے۔

اس طرح کالا باغ ڈیم پر عوامی تحریک کی جانب سے نکالی گئی ریلی کے شرکاء کا کہنا تھا کہ آج بھی جنرل مشرف کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر بضد ہے اور سندھی قوم کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

فورم کے موقع پر جبری شادی اور عزت کے نام پر قتل کے خلاف تھیٹر بھی پیش کیئے گئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد