عالمی فورم اور مقامی نعرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی سوشل فورم میں ویسے تو تنقید کا نشانہ عالمی مالیاتی ادارے، سامراج اور امریکی جارحیت ہوتی ہے، مگر کراچی میں ہونے والے عالمی سوشل فورم کے دوسرے روز پاکستان کے اہم ایشوز پر سماجی تنظیموں نے ریلیاں نکال کر دنیا بھر سے آنے والے مندوبین کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ ہفتے کی صبح سے ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوا جو شام تک جاری رہا۔ یہ ریلیاں بلوچستان آپریشن، کالاباغ ڈیم کی تعمیر، جبری مشقت اور اوکاڑہ زرعی فارمز میں مزارعوں پر مظالم کے خلاف نکالی گئیں۔ ساتھ ساتھ امریکی جارحیت کے خلاف اور دنیا میں امن کے لیئے بھی ریلی نکالی گئی۔ فورم کے داخلی دروازے کے سامنے بلوچستان کی سماجی تنظیوں نے احتجاج کیا، مظاہرین پاک فوج کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔ تربت سے گمشدہ بلوچ لکھاری ڈاکٹر شریف بلوچ کی والدہ، والد اور بہنوں نے اس موقع کر بھوک ہڑتال بھی کی۔ ڈاکٹر شریف کی والدہ نسیمہ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بتایا کہ دو میجروں کی سربراہی میں اہلکاروں نے گرفتاری سے قبل دریافت کیا کہ ڈاکٹر حنیف شریف کون ہے۔ شناخت کے بعد وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شریف کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بلوچستان اور بلوچوں کو ان کا حق دیا جائے۔ نسیمہ بلوچ کے مطابق شریف کی گرفتاری کو چار مہینے ہوگئے ہیں مگر کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں، زندہ ہیں یا ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔ انجمن مزارعین اوکاڑہ کی جانب سے نکالی گئی ریلی کے مقررین کا کہنا تھا کہ مزارعوں پر آج بھی مظالم جاری ہیں اور اوکاڑہ کی زمین مالکانہ حقوق پر مزارعوں کو دی جائے۔ اس طرح کالا باغ ڈیم پر عوامی تحریک کی جانب سے نکالی گئی ریلی کے شرکاء کا کہنا تھا کہ آج بھی جنرل مشرف کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر بضد ہے اور سندھی قوم کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ فورم کے موقع پر جبری شادی اور عزت کے نام پر قتل کے خلاف تھیٹر بھی پیش کیئے گئے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||