کراچی بستی: مسماری پر تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ایک بستی کو مسمار کرنے کی کوشش کے دوران شہری کی ہلاکت کے بعد لوگوں اور پولیس میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس معاملے نے سیاسی رخ بھی اختیار کرلیا ہے۔ سکندر آباد میں جمعہ کے روز پولیس اور شہریوں میں جھڑپوں کے دوران فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے، مشتعل لوگوں نے شام سات بجے سے رات گئے تک سپر ہائی وے بلاک کردی تھی۔ شہر کے داخلی راستے پر قائم سکند آباد کے رہائشی لوگوں اور پولیس میں جمعہ کے روز اس وقت تصادم شروع ہوا جب پولیس ایک بلڈر کے ہمراہ بستی کو مسمار کرنے کے لئے پہنچی۔ لوگوں نے اس اقدام پر مزاحمت کی جس پر اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کا سہارا لیا، یہ تصادم شام تک جاری رہا جس میں ایک شہری رفیق اوڈ ہلاک ہوگیا۔ شہری کے ہلاکت کے بعد لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے سپر ہائی وے پر تین گاڑیوں کو نذر آتش کردیا اور رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ نتیجے میں ملک کی اہم شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی جو رات گئے بحال ہوئی۔ لوگوں نے ہفتے کے روز مقتول کی لاش کے ساتھ ایک گھنٹہ سپر ہائی وے پر دھرنا دیا،جس وجہ سے ایک مرتبہ پھر ٹریفک معطل ہوگئی۔
سچل پولیس نے مقتول کے والد محمد اسماعیل کی درخوست پر ایک بلڈر قمر مختار کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے، مدعی کا کہنا ہے کہ بلڈر نے دو سو لوگوں کے ساتھ بستی پر حملہ کیا اور فائرنگ کی جس میں ان کا بیٹا ہلاک ہوگیا۔ بستی کی ایکشن کمیٹی کے رہنما جمعہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بلڈر مختار کا دعوٰی غلط ہے، ’یہ بستی پچاس برس پرانی ہے جس کے گھروں کی لیز بھی ہوچکی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں کے پاس گھروں کی سندیں موجود ہیں اور برسوں سے اس علاقے سےقومی شناختی کارڈ بنتے رہے ہیں۔ ’اب گورنر کہتے ہیں کہ لیز رد کی جائے یہ نا انصافی ہے‘۔ جمعہ خان کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ پولیس کو عارضی بنیادوں پر ہٹایا گیا ہے، ’جس کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ واپس آکر ہم پر تشدد کریں گے اب ہمارے پاس بھی لڑنے اور مرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے‘۔ واضح رہے کہ اس سے تین ماہ قبل جمعہ گوٹھ میں سات سو گھر مسمار کیئے گئے تھے جبکہ شہر کے مضافات میں موجود سات قدیمی بستیوں اور گاؤں کے رہائیشیوں کو گھر خالی کرنے کے لئے نوٹس جاری کیئے گئے ہیں‘۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ ان کارروائیوں میں ملوث ہے، کیونکہ ان علاقوں سے انہیں ووٹ نہیں ملتے۔ ایم ایم اے کے رہنما اور گوٹھ بچاؤ ایکشن کمیٹی کے صدر رکن قومی اسمبلی مولانا اسداللہ بھٹو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن ان علاقوں میں ہو رہا ہے جہاں ایم کیو ایم کو ووٹ نہیں ملتے یا جہاں ان کےسیکٹر اور یونٹ آفس قائم نہیں کئے جاتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متحدہ ان کارروائیوں سے لوگوں کو ہراساں اور پریشان کرکے مرعوب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مولانا بھٹو نے بتایا کہ محکمہ ریونیو نے لوگوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے بلڈر کو متبادل زمین الاٹ کی تھی ’اب وہ اس زمین میں دلچسپی کیوں رکھتا ہے‘۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان رکن صوبائی اسمبلی عبدالقدوس نے اپوزیشن جماعتوں کے الزامات رد کئےہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف سندھی، بلوچی یا پشتو بولنے والے لوگوں کی بستیاں مسمار نہیں کی جارہی ہیں اگر یہ بستیاں اردو بولنے والوں کی ہیں اور غیر قانونی طریقے سے بنائی گئیں ہیں تو انہیں بھی ہٹا دیا جائے گا۔ عبدالقدوس کے مطابق یہ بات طے ہے کہ انتظامیہ کسی غیر قانونی اور غیر اخلاقی کارروائی میں ملوث نہیں ہوتی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشکل کام صرف متحدہ سرانجام دیتی ہے جبکہ دوسرے لوگ مصلحت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث رہائشی کالونیوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس وجہ سے بلڈروں کی نظریں شہر کے مضافات کی زمینوں پر ہیں جہاں کے لوگ یہاں عرصہ دراز سے آباد ہیں اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ | اسی بارے میں سی پی ایل سی کیسے فعال ہو؟17 April, 2006 | پاکستان 1350 پاکستانی کراچی پہنچے19 April, 2006 | پاکستان کراچی حملہ: تفتیش جاری مگر نتائج؟21 April, 2006 | پاکستان کراچی، بجلی کا بحران شدید تر04 May, 2006 | پاکستان پسند کی شادی پر جان کے لالے04 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||