کراچی، بجلی کا بحران شدید تر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے اور صنعتی طور پر اہم ترین شہر کراچی میں بجلی کا بحران اگر ایک طرف سیاسی رخ اختیار کررہا ہے تو دوسری جانب صنعتکاروں کے مطابق اس سے ایک ارب روپے سے زیادہ کا یومیہ نقصان بھی ہو رہا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن صنعتی اور رہائشی صارفین کو بجلی مہیا کرنے والا پاکستان کا وہ پہلا ادارہ ہے جس کو نجی شعبے کے حوالے کیا گیا ہے۔ تاہم گزشتہ برس کے آخر میں نجی شعبے میں جانے کے بعد سے ان دنوں کے ای ایس سی کو اب تک کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے۔ کے ای ایس سی کے مطابق موسم گرما میں اسے طلب اور رسد میں تقریباً چھ سو میگاواٹ کی کمی درپیش ہے جس کو واپڈا سے بجلی حاصل کرکے پورا کیا جارہا تھا۔ واپڈا کے ممبر پاور چودھری انور خالد نے بی بی سی کے علی سلمان کو لاہور میں بتایا کہ ویسے تو واپڈا نے کے ای ایس سی کو ساڑھے پانچ سو میگاواٹ بجلی دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے لیکن پچ[لے برس سے اب تک واپڈا نے بعض دفعہ چوہتر فیصد زیادہ تک بجلی کے ای ایس سی کو دی ہے۔ تاہم اس معاملے نے ایک نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب اپریل کے آخر میں کے ای ایس سی نے واپڈا پر سپلائی بند کردینے کا الزام عائد کیا۔ جواباً واپڈا نے کے ای ایس کو نادہندہ قرار دے دیا۔ جواب الجواب کے طور کے ای ایس نے واجبات ماننے سے انکار کیا اور واپڈا پر کراچی سے امتیازی سلوک کا الزام لگایا کہ واپڈا اس کو پہلے ہی باقی ملک سے پچاس پیسے مہنگی بجلی دے رہا تھا اور اب جس کو پانچ روپے دس پیسے فی یونٹ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ کے ای ایس سی کے ترجمان سلطان احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ادارے نے واپڈا کے مطالبات پر بجلی کے نظام کے نگراں ادارے نیپرا سے رابطہ کیا تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کے ای ایس سی بجلی تین روپے انہتر پیسے کے حساب خریدے یا پانچ روپے دس پیسے۔
تاہم واپڈا کے مطابق مہیا کی گئی بجلی کے دام واپڈا نے بجلی کے نظام کے نگراں ادارے نیپرا کی اجازت سے بڑھائے ہیں۔ چودھری انورخالد کے مطابق کے ای ایس سی کو بھیجے گئے بل کا نرخ نیپرا کے نرخ کے مطابق ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے ای ایس سی کو بجلی واپڈا اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد اضافی طور پر پیدا کر کے مہیا کرتا ہے اور اس کی جتنی پیداواری لاگت ہوتی ہے، اتنی ہی وصول کی جاتی ہے۔ اس پورے معاملے کو مزید سیاسی رنگ اسلام آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی کنورخالد یونس کے اس مطالبے سے ملا کہ واپڈا کا صدر دفتر لاہور سے اسلام آباد منتقل کیا جائے۔ بدھ کو ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بھی یہ مطالبہ کیا کہ کراچی سے امتیازی سلوک بند کیا جائے اور وہاں میں بجلی کے نرخ باقی ملک کی ہی مانند رکھے جائیں۔ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے بھی بدھ کے روز اپنی پریس کانفرنس میں یہی بات کہی کہ کراچی کے صارفین سے بجلی کی قیمت دو روپے فی یونٹ زیادہ وصول کی جارہی ہے جو سراسر زیادتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں ایک خدشہ یہ ہے کہ اگر کے ای ایس سی کو واپڈا سے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور کیا گیا تو اس کا لازمی نتیجہ صارفین کے لیے بجلی کے نرخ میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔ تاہم فی الحال کے ای ایس کے جرمن مینیجنگ ڈائیریکٹر فرینک شرزشمٹ اس جانب سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی اس کی فکر نہیں ہے کیونکہ صارفین کے لیے بجلی کے نرخ نیپرا طے کرتی ہے، کے ای ایس سی خود بخود نرخ بڑھانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ بجلی کے نرخ کافی لمبے عرصے کے لیے طے کردیے گئے ہیں۔ کراچی میں بجلی کا شدید بحران اگر ایک طرف یہ رنگ دکھا رہا ہے تو دوسری اس سے میٹرک اور انٹر کے امتحانات کی تیاری کرنے والے بھی بری طرح متاثر ہیں جبکہ کراچی میں صنعتکاروں اور صنعتی اداروں کی نمائندہ تنظیموں کے مطابق بجلی کی معطلی سے صنعتی اور تجارتی اداروں کو ایک سے ڈیڑھ ارب روپے یومیہ کا نقصان ہورہا ہے۔ ان تنظیمیوں کے مطابق سب سے زیادہ متاثر وہ صنعتی یونٹس ہیں جو بیرون ملک خصوصاً یورپ اور امریکہ برآمد کی جانے والی اشیاء تیار کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی: کانگو وائرس کا مریض؟ 05 October, 2005 | پاکستان 210 قدیم عمارتیں گر سکتی ہیں20 October, 2005 | پاکستان ایندھن اور اشیائے خورد کی کمی14 April, 2006 | پاکستان سی پی ایل سی کے مستقبل پر اٹھتے سوالات17 April, 2006 | پاکستان تعمیر نو: حکومت مشکلات کا شکار20 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||