سی پی ایل سی کیسے فعال ہو؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں سترہ برس پہلے قائم کی جانے والی سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی یا سی پی ایل سی کو سن نوے کی دہائی میں پولیس کے خلاف شکایات اور اغواء برائے تاوان کےکیسوں کے تدارک سے غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی۔ لیکن اب بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ کمیٹی اپنی افادیت کھوتی جارہی ہے۔ پاکستان میں پولیس کا نظام ابھی تک بڑی حد تک نوآبادیاتی بنیادوں پر ہی قائم ہے اور پولیس کے خلاف شکایات کے تدارک کا کوئی موثر انتظام نہیں ہے۔ سترہ برس پہلے کراچی میں سی پی ایل سی کے قیام کا منفرد فیصلہ اس خامی کو دور کرنے کی پہلی قابل ذکر کوشش تھی اور اس کو زبردست کامیابی بھی حاصل ہوئی تھی۔ سی پی ایل سی کے بانی رکن اور سابق سربراہ جمیل یوسف بتاتے ہیں کہ سن انیس سو نواسی میں گورنرفخرالدین جی ابراہیم کے اعزاز میں شہریوں کی جانب سے ایک استقبالیے کا اہتمام کیا گیا تھا جو کسی بھی گورنر کے اعزاز میں دیا جانے والا پہلا اور اب تک آخری استقبالیہ تھا۔ وہیں یہ بات ہوئی کہ پولیس اور عوام میں فاصلے ختم کرنے کے لیے کوششیں کی جانی چاہئیں۔ اسی کے بعد برطانوی ’نیبرہڈ واچ‘ کی طرز پر ایک ادارے کے قیام کا فیصلہ ہوا جس کا بنیادی کام پولیس اور عوام کے درمیان رابطہ تھا۔ ادارے کے موجودہ سربراہ شرف الدین میمن کے مطابق گو سن نواسی میں سی پی ایل سی کا قیام طبقۂ امراء کے افراد کے اغواء برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے نمٹنے کے لیئے ہوا تھا لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ غریب لوگوں کو ہوا جو کسی کی سفارش نہیں لاسکتے یا کسی بااثر فرد کو نہیں جانتے۔ اس وقت کے صوبۂ سندھ کے گورنر ریٹائرڈ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کے بقول سی پی ایل سی کے قیام کی مخالفت خود پولیس اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے بھی ہورہی تھی۔
سی پی ایل سی کے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا شروع میں پولیس بھی تعاون نہیں کررہی تھی اور بیوروکریسی کے ذہنوں میں بھی شبہات تھے کہ یہ کن کن لوگوں کو لاکر ان کے سروں پر بٹھایا جارہا ہے۔ لیکن اب سترہ برس بعد کیا سی پی ایل سی کی افادیت ختم ہوگئی ہے یا یہ غیر موثر ہوچکی ہے، جمیل یوسف اس تاثر کو تقویت دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی سربراہی میں سی پی ایل سی کا معیار اور ساکھ اتنی زیادہ تھی کہ اگر اس سے مقابلہ کرکے دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اب اس ادارے کو وہ حمایت حاصل نہیں رہی جو ماضی میں ہوتی تھی۔ جمیل یوسف کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر پولیس کے احتساب کے ضمن میں محسوس ہوتی ہے اور اگر واقعی صورتحال ویسی ہی ہے جیسی کہ دکھائی دے رہی ہے تو یہ بہت تشویشناک بات ہوگی۔ اور شرف الدین میمن اس کے بالکل برعکس دلیل دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر اغواء برائے تاوان اور گاڑیوں کی چوری کی روک تھام کو ہی بطور مثال لے لیا جائے تو اعدادوشمار گواہی دیتے ہیں کہ سی پی ایل سی کی کارکردگی برقرار کیا رہی ہے، پہلے سے بھی بہتر ہوگئی ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو، ملک کے مخصوص سیاسی تناظر میں گرتی ہوئی کارکردگی کی بنیاد ناقدین کے خیال میں سیاسی مداخلت ہی ہوتی ہے۔ اس کا مقابلہ جمیل یوسف کے خیال میں سی پی ایل سی کے ارکان انفرادی ہمت سے ہی کرسکتے ہیں کہ ادارے کے ارکان کی ہمت کی بدولت سیاسی مداخلت کا راستہ روکا جاسکتا ہے ورنہ کوئی سیاستدان یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے جائز یا ناجائز اختیارات پر کوئی قدغن لگے۔ سابق گورنر فخرالدین جی ابراہیم کے خیال میں سی پی ایل سی میں پرانی توانائی اور ساکھ بحال کرنے کے لیئے ادارے کو موجودہ مسائل میں سے کسی بھی اہم ترین مسئلے کوبھرپور طور پر اٹھانا ہوگا۔ ان کی تجویز ہے کہ کارکردگی گرنے کا تاثر دور کرنے کے لیے سی پی ایل سی کسی ایسے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے جس سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بری طرح عاجز ہے۔ | اسی بارے میں ’کیمرے کے ساتھ تمہیں بھی توڑ دونگا‘11 April, 2006 | پاکستان کراچی:سبھی عدم تحفظ کا شکار 12 April, 2006 | پاکستان ’عوام کے زخموں پر پھایہ کون رکھے‘12 April, 2006 | پاکستان ’خفیہ ایجنسیوں سے جان کا خطرہ ہے‘15 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||