BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 April, 2006, 18:02 GMT 23:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خفیہ ایجنسیوں سے جان کا خطرہ ہے‘

محاصرہ
’گھر کے محاصرے سے انکار کر کے انتظامیہ نے اعلٰی عدلیہ سے بھی مذاق کیا ہے‘
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلٰی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں سے جان کا خطرہ لاحق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گھر کے محاصرے سے انکار کر کے انتظامیہ نے اعلٰی عدلیہ سے بھی مذاق کیا ہے۔

سردار اختر مینگل کے گھر کا پولیس اور خفیہ اداروں نے دس روز سے زیادہ عرصے سے محاصرہ کیا ہوا تھا جو بالآخر جمعے کو ختم کردیا گیا۔

محاصرے کے خاتمے کے بعد سنیچر کوایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار مینگل نے کہا کہ جس انداز میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے ہراساں کیا گیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہ ادارے بلوچوں کے حقوق مانگنے والوں کی جان کے درپے ہیں۔

اختر مینگل کے مطابق خود ان کی اور ان کے ساتھیوں کی جانیں بھی خطرے میں ہیں اور اگر کوئی ان کو یا کسی بھی ساتھی کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کے ذمہ داری ملٹری انٹیلی جنس اور انٹرسروسز انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی پر عائد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات اب ریکارڈ پر لے آئے ہیں اور کسی کو بھی نقصان پہنچنے کی صورت میں عدالتیں اس کا نوٹس لیں۔

سردار مینگل کے مطابق محاصرے کے دوران ان پر دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کے ایک بریگیڈیئر سے جا کر ملیں مگر انہوں نے اس سے پہلے بھی انکار کردیا تھا اور اب بھی بحیثیت ایک سیاسی کارکن وہ یہ بات قبول نہیں کریں گے۔

اختر مینگل کے مطابق ان کے ہتھیاروں کے لائسنس منسوخ کرنے کے
بعد ہتھیار ضبط کر کے انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے کہ ایک سابق وزیراعلٰی کے لائسنس اور ہتھیار یوں ضبط کیے گئے ہیں۔

اختر مینگل مطابق بہتر ہوتا کہ ان کی شہریت ہی منسوخ کردی جاتی کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پورے معاملے میں انتظامیہ نے ہائیکورٹ کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی کیونکہ حکومت نے عدالت کے سامنے پہلے تو محاصرے سے انکار کیا اور پھر بعد میں عدالت کے سوال پر محاصرہ ختم کیا گیا۔

یاد رہے کہ سردار اختر مینگل سمیت کئی لوگوں کے خلاف پولیس نے خفیہ ادارے کے دو ارکان کے اغواء اور ان پر تشدد کے الزام میں مقدمہ درج کر کے سردار مینگل کے چار ملازمین کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

چاروں ملازمین کو اب عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد