BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 April, 2006, 15:33 GMT 20:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اختر مینگل کے گھر کا پانی بند

کچکول علی اور حئی بلوچ
کچکول علی اور حئی بلوچ نے اختر مینگل کے گھر کے محاصرے کی مذمت کی ہے
کراچی میں بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل نے چوتھا دن بھی غیر اعلانیہ نظربندی میں گزارا، پولیس نے ہفتے کے روز بھی ان کا گھر کا محاصرہ جاری رکھا۔

اختر مینگل نے اپنے گھر سے ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا
کہ سندھ حکومت سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ان کے گھر کا پانی بھی بند کردیا گیا ہے جبکہ اخبارات کی ترسیل پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’میں نے باہر نکل کر کہا کہ اگر میرے خلاف وارنٹ ہیں تو میں پولیس موبائل میں بیٹھنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر میں نظر بند ہوں تو میرے گھر کو سب جیل قرار دیا جائے‘۔

اختر مینگل نے بتایا کہ ’پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں کوئی آرڈر نہیں۔ مجھے یہ پتا نہیں چلتا کہ حکومت کون چلا رہا ہے ۔خفیہ اداروں نے صوبائی حکومت اور پولیس کو شیلڈ کی طرح سامنے کیا ہوا ہے‘۔

گھر کے باہر پولیس کی ایک بڑی نفری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ’میں بھی دہشتگرد ہوں‘۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ حکومت سے کیا دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’کس کس سے مذاکرات کیئے جائیں، جن لوگوں کو بااختیار ہونا چاہئے تھا وہ بے اختیار ہیں جبکہ جو طاقتور اداروں کے لوگ ہیں وہ ہمیشہ بندوق کی زبان سمجھتے ہیں‘۔

اختر مینگل کے گھر کے محاصرے پر احتجاج

انہوں نے بتایا کہ اس محاصرے کو وہ عدالت میں چیلنج کریں گےآ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کی نا اہلی کے باعث ہی ایسے لوگ اقتدار میں ہیں۔

دوسری جانب سندھ اور بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو، کچکول علی اور نیشنل پارٹی کے سربراھ حئی بلوچ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اختر مینگل کے گھر کے محاصرے کی مذمت کی ہے۔

نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صورتحال کو اب سندھ کے کچھ علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے جس پر اسمبلی میں حکومت سے سوال طلب کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی صورتحال اور موجود حالات پر چاروں صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں حکمت عملی طے کی جائے گی۔

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنما کچکول علی نے بتایا کہ موجودہ حالات کے خلاف احتجاجاً مستتعفی ہونے پر اپوزیشن اراکین متفق ہیں اب فیصلہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کرنا ہے۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق سینیٹر حئی بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں منصوبہ بندی کے تحت حالات خراب کیئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق کوہلو میں راکٹ حملے کو جواز بنا کر بلوچستان کے عوام کے خلاف جارحانہ جنگ شروع کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا، ’جس حکومت کی اپنی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو،جو خود غاصب ہے اس کی کیا رٹ ہوسکتی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد