BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 March, 2006, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوبائی خودمختاری دینا کتنا مشکل

بلوچستان میں ایک قبائلی
برصغیر کی آزادی کے بعد بھارتی ریاستوں اور پاکستانی صوبوں کا سب سے بڑا مطالبہ اندرونی خودمختاری کا رہا
ایک مورخ نے لکھا ہے کہ اگر صوبوں اور ریاستوں کو سیاسی اور مالیاتی خودمختاری دینا اتنا آسان ہوتا تو جہموریت کے علمبردار مغربی ممالک خصوصی طور پر برطانیہ نے اپنے علاقوں کو کب کی یہ آزادی دے دی ہوتی۔

برطانوی سامراج نے اسکا پہلا تجربہ سن پنتیس میں اس وقت کرنا چاہا جب اس نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ پاس کرکے برصغیر میں وسیع ترخودمختاری کا مطالبہ کرنے والے سیاسی رہنماوں کو کچھ وقت کے لیئے خاموش کردیا مگر ان دنوں برصغیر میں نہ صرف بنیادی حقوق کے حصول کی جنگ کی بنیاد پڑی بلکہ تحریک آزادی کی حقیقی لڑائی کو اسی ایکٹ سے جلا بھی ملی۔

برصغیر کی آزادی کے بعد بھارتی ریاستوں اور پاکستانی صوبوں کا سب سے بڑا مطالبہ اندرونی خودمختاری کا رہا جس کو پانے کے لیئے سیاسی تحریکوں نے اکثر مسلح تحریکوں کی شکل بھی اختیار کی۔

بھارت نے جہموریت کا لبادہ اوڑھ کر بڑی حکمت عملی سے قوم پرستوں سے لے کراندرونی خودمختاری کی تحریکوں کو بے دردی سے دبادیا مگر پاکستان کو ان کو دبانے میں شاید اتنی کامیابی نہیں ملی حالانکہ اس نے بھی کئی بار اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

جہاں تک پاکستان کے مغربی حصے کا تعلق ہے تو انگریز سامراج نے یہاں کی نبض جانچ کر ہی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا اور انہیں اپنے اندرونی امور خود سنبھالنے کی آزادی دے رکھی تھی۔ یہی پالیسی حکومت پاکستان نے اب تک جاری بھی رکھی مگر ان ہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے درمیانے اور نچلے طبقے نے ان کو نظر انداز کرنے کی حکومت کی پالیسیوں کو جب نشانہ بنانے کی مہم شروع کی تو حکومت پاکستان نے حرکت میں آکر کئی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کردیا۔

یہ بات واضح ہے کہ جب بھی حکومت نے سرحد یا بلوچستان میں کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع کیا تو اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، وہ چاہے گوادر کا ڈیپ سی پروجیکٹ ہو یا بلوچستان میں نئی فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے کا منصوبہ ہو۔

بلوچ قوم پرست حکومت سے پوچھتے ہیں کہ اگر وہ یقینی طور پر بلوچستان کی ترقی چاہتی ہے تو اس نے وہاں پر پرائمری سکول سے لے کر پرائمری ہیلتھ سنٹر قائم کیوں نہیں کیئے جن کی وہاں اشد ضرورت ہے۔ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے منصوبے کیوں شروع کر رہی ہے جن کی بدولت وہاں دوسرے صوبوں کے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کی جاتیں ہیں تاکہ بلوچوں کی آبادی میں کمی پیدا کی جاسکے۔

بلوچستان میں نقل مکانی
لڑائی کے باعث لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں

بلوچوں کے اس مطالبے میں وزن ہے کہ پورے پاکستان کو سوئی پلانٹ سے نہ صرف گیس سپلائی ہوتی ہے بلکہ اس سے سالانہ پچاسی ارب روپے آمدنی بھی ہوتی ہے تو اس میں سے بلوچستان کو بطور رائلٹی صرف سات ارب روپے ہی کیوں دیئے جاتے ہیں؟ اسی آمدنی کو کیوں صوبے کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر استعمال نہیں کیا جاتا اور مقامی لوگوں کو ان منصوبوں میں ملازمتیں کیوں نہیں ملتیں؟

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ برصغیر مغرب کی کتنی بھی نقل کرے مگر ان ملکوں کو اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے یا ان کے مطالبات کو پورا کرنے کی تہذیب نہیں آئی۔ حالانکہ بیشتر حکمران مغربی جمہوریتوں کی خوبیاں ہر وقت گنواتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں بلوچستان کے کچھ علاقوں میں فوج اور مقامی قبائلیوں کے درمیان تصادم کے پیش نظر عام لوگ جب مشکلات سے دوچار ہوگئے تو انہوں نے وہاں سے ہجرت کرنے میں ہی اپنی آفیت سمجھی۔

لوگ آسان زندگی کے متمنی ہیں، ترقی کی خواہش رکھتے ہیں روزگار کے وسائل چاہتے ہیں مگر بقول مبصرین ان کے کچھ آقا اسے اپنے لیئے خطرہ تصور کر رہے ہیں۔

عام بلوچی اور پختون کہتے ہیں کہ بلوچستان اور سرحد کے حالات بہتر ہوتے اگر اسلام آباد کے حکمرانوں نے چند عناصر کی حالیہ تشدد کی کارروایوں کی سزا پوری آبادی کو نہیں دی ہوتی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر مینگل، مری اور بگٹی یہ سمجھتے ہیں کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں سے ان کی سرداری خطرے میں پڑجائیگی تو ان کے لیئے یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کرے گا کیونک میڈیا کے پھیلاؤ کی وجہ سے انسانی حقوق کے موضوعات پر اب جس طرح سے ہر گھر کے دیوان خانے میں بحث ہونے لگی ہے ایسے حالات میں سرداری کو قائم رکھنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن بھی۔

اسی بارے میں
بارودی سرنگ سے 26 ہلاک
10 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد