اسلام آباد میں کشمیر پر کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پچاس سے زائد سیاست دان اور رہنما آج (جمعہ) سے اسلام آباد میں کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس کشمیر کانفرنس کا انعقاد ایک بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے پگواش نے کرایا ہے اور اس کا مقصد کشمیر کے بارے میں ایک متفقہ موقف اپنانا ہے۔ تین روزہ کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کو مدعو نہیں کیا گیا تاکہ شرکاء کشمیر پر کھل کر اپنا اپنا موقف بیان کریں۔ اس کانفرنس کے آخری روز یعنی اتوار کو ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ اس کانفرنس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے حریت کانفرنس کے رہنما یاسین ملک، عبدالغنی بھٹ اور سجاد لون شامل ہیں جبکہ سابقہ بھارتی وزیر مملکت عمر عبداللہ اور بھارت کی کمیونسٹ مارکسسٹ جماعت کے نمائندے بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ پاکستان کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم، مسلم کانفرنس اور حریت کانفرنس پاکستان چیپٹر کے ارکان بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ پاکستان میں پگواش کے کوآرڈینیٹر ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود جو دفاعی مبصر بھی ہیں اس کانفرنس کی میز بانی کر رہے ہیں۔انہوں نے کانفرنس سے قبل بی بی سی کو بتایا کہ اس کانفرنس کا مقصد مسئلہ کشمیر کے حل کی نئی راہیں تلاش کرنا ہے اور اس میں کشمیر کو خود مختاری دینے اور غیر فوجی علاقہ بنانے پر بھی بات ہو گی۔ طلعت مسعود نے بتایا کہ اس کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں پر زور دیا جائے گا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جاری امن کے عمل کو نہ صرف جاری رکھیں بلکہ اس میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دیں۔ اس کانفرنس میں کشمیر پر مختلف آرا رکھنے والے لوگ شامل ہیں جن میں سے کچھ کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو کچھ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کی۔ ان تمام لوگوں کا ایک جگہ بیٹھ کر بات کرنا ہی کشمیر کے مسئلے پر جاری اس کانفرنس کو سابقہ کانفرنسوں سے ممتاز کرتا ہے ۔ گو اس کانفرنس کو پاکستانی یا بھارت کی حکومتوں کی آشیر باد حاصل نہیں ہے تاہم اس طرح کی بات چیت کو عموما ٹریک ٹو کا نام دیا جاتا ہے جس میں سرحد کے دونوں جانب کے لوگ مل کر کسی مسئلے پر بات کر کے حکومتوں پر زور ڈالتے ہیں کہ وہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رہنے والے کشمیریوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں کیئے گئے فیصلوں کو اہمیت دیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ اٹھاون سال سے کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے اور اس پر دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں بھی ہوئی ہیں۔تاہم یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو پایا ہے۔ پاکستان اور بھارت نے گزشتہ دو برسوں میں کشمیر میں آمد ورفت کے کئی راستے کھولے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونی والی اس کانفرنس کے شرکا نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی ہے۔ | اسی بارے میں سرینگر کی امداد براستہ لاہور 18 October, 2005 | پاکستان یاسین ملک پاکستان پہنچ گئے 18 October, 2005 | پاکستان کوئی فرق نہیں پڑے گا: پاکستان24 June, 2005 | پاکستان شیخ رشید کیمپ چلاتے تھے: بیگ16 June, 2005 | پاکستان بھارت کی تشویش، وزیرکی وضاحت14 June, 2005 | پاکستان شیخ رشید کی درخواست مسترد24 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||