BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 June, 2005, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیخ رشید کی درخواست مسترد

شیخ رشید
دورہ کشمیر کو خواہ مخواہ اتنا بڑا مسئلہ بنایا جا رہا ہے: شیخ رشید
بھارتی حکومت نے پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید کی جانب سے بس سروس کے ذریعے سری نگر جانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ بھارتی حکومت کی طرف سے باضابطہ منظوری کے منتظر ہیں۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کا عمل کھٹائی میں نہیں پڑنا چاہیے۔


وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دورے کو خواہ مخواہ اتنا بڑا مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر سے جب پوچھا گیا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے ایسےاشارے مل رہے ہیں جس کے مطابق شاید بھارتی حکام شیخ رشید کو سری نگر کے دورے کی اجازت نہ دیں تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے ملنے والے اشارے متضاد ہیں۔

شیخ رشید نے کل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی ہے جس میں صدر نے بھی یہی کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری امن مذاکرات کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

جب شیخ رشید سے پوچھا گیا اگر اس سے دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو کیا وہ اپنا دورہ منسوخ کر دیں گے اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ پہلے اپنے دورے کے بارے میں بھارتی حکومت کے حتمی فیصلے کا انتظار کریں گے جو ان کے مطابق ستائیس جون تک متوقع ہے۔

شیخ رشید نے کہا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جو لوگ کشمیر بس سروس کے مخالف ہیں وہ بھی ان کے دورے کی منسوخی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بحیثیت وزیر نہیں بلکہ بحیثیت ایک کشمیری کے سری نگر جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے دادا اور دادی کی قبروں پر فاتحہ پڑھ سکیں اور اپنے چچا اور پھوپھیوں سے مل سکیں جن سے بچھڑ کر ان کا خاندان 1947میں پاکستان میں سکونت پذیر ہو گیا تھا۔

شیخ رشید کے دورہ سرینگر پر اس وقت ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جب پاکستان کے ایک قومی انگریزی روزنامے میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سے منسوب ایک بیان شائع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں عسکریت کے ابتدائی عرصے میں شیخ رشید کشمیری عسکریت پسندوں کے لیے ایک ٹرینگ کیمپ چلا رہے تھے۔

بھارت نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا ہے۔ یاسین ملک اور شیخ رشید دونوں نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔

مسڑ ملک کا کہنا تھا نے انھوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہا کہ شیخ رشید عسکریت پسندوں کو تربیت دینے میں ملوث رہے ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیں خوراک اور پناہ فراہم کی لیکن اس کے فوراً بعد پاکستان کے فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ نے یہ بیان دے دیا کہ شیخ رشید احمد اسلام آباد سے کچھ دور فتح جنگ روڈ پر واقع اپنے فارم ہاؤس پر کشمیری عسکریت پسندوں کے لیے ایک ٹریننگ کیمپ چلاتے تھے جو انیس سو نوے میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کہ کہنے پر بند کروایا گیا ۔

شیخ رشید ان الزامات کی تواتر سے تردید کرتے آرہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیری عسکریت پسندوں کو صرف پناہ دی اور کھانا کھلایا۔

بھارت کی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ رشید احمد کو سرینگر آنے سے منع کریں ۔ اس نئے تنازعے سے شیخ رشید کے دورہ کشمیر پر سوال پیدا ہوگیا ہے اور منموہن سنگھ حکومت کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ آئندہ شیخ رشید کے دورے پر کیا پالیسی اختیار کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد