BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 June, 2005, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری رہنماؤں کی کامیاب واپسی

News image
کشمیری رہنماؤں کا وفد پاکستان کا کامیاب دورہ کر کے واپس لوٹ گیا ہے
حریت کانفرنس اور دیگر کشمیری رہنماؤں کا دورہ پاکستان توقعات سے زیادہ کامیاب دکھائی دے رہا ہے۔ حریت کانفرنس کےاس دورے نے جموں اور کشمیرمیں بھارت اور عسکریت پسند قوتوں کے درمیان سیز فائر کی راہ ہموار کردی ہے۔

ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سینئر نائب صدر محمود ساغر نے بتایا کہ کشمیری رہنما سب کے لیے قابل قبول سیز فائر کے ایک طریقہ کار پر راضی ہوگئے ہیں۔

ساغر کا کہنا تھا کہ متحد حریت کچھ ہفتوں میں سرینگر سے عسکر یت پسندوں اور بھارت کی حکومت سے سیز فائر کی اپیل کرے گی اور عسکریت پسند اور بھارت دونوں اس اپیل کا مثبت جواب دیں گے۔

انہوں نے اس پر مزید کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔ کچھ دوسرے کشمیری رہنماؤں نے بھی اس خبر کی تائید کی ہے۔ ایک اور کشمیری رہنما کا کہنا تھا کہ اس فارمولے کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ مگر بھارت کی طرف سے صاف اشارہ نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت بھی آخرکار اس فارمولے پر راضی ہو جائےگا۔ یہ فارمولا حریت کانفرنس اور عسکریت پسند رہنماؤں کے درمیان خفیہ ملاقاتوں میں طے پایا۔

متحدہ جہاد کونسل کے ایک رہنما نے بتایا کہ کونسل نے فیصلہ کیا تھا کہ اس کے اراکین حریت کانفرنس اور دوسرے کشمیری رہنماؤں سے اکیلے ملیں گے۔ حزب المومنین اور جمعیت المجاہدین کے علاوہ متحدہ جہاد کونسل کے تمام اراکین نے کشمیر سے آئے ہوئے رہنماؤں سے ملاقات کی۔

پاکستانی مجاہدین جیسا کہ لشکر طیبہ کے رہنما ز کی الرحمن نے بھی کشمیری رہنماؤں سے خفیہ ملاقاتیں کی ہیں۔ جماعت الدعوہ کے حافظ سعید نے کشمیری رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی۔

متحدہ جہاد کونسل کے ایک اور رکن نے بتایا کہ کونسل کے کچھ ارا کین اب بھی سیز فائر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ آخر میں وہ بھی راضی ہو جائیں گے۔

حریت کانفرنس کے مولوی عباس انصاری گروپ کے نقطہ نظر سے اس دورے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے مولوی عباس انصاری کے دھڑے کو ہی اصلی حریت کانفرنس تسلیم کیا ہے۔

دورے کے اختتام پر عبد الغنی بھٹ نےجو کہ حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں بتایا کہ (حکومت پاکستان) نے میر عمر فاروق کو بالاخر حریت کانفرنس کاچئرمین تسلیم کر لیا ہے۔ یہاں یہ بتاناضروری ہے کہ پا کستان ٹیلی ویژن نے اس دورے کے دوران ہی سید علی شاہ گیلانی کوحریت کانفرنس کا بزرگ رہنما کہنا شروع کر دیا تھا۔

اس دورے کے بعد حریت کانفرنس کے سید علی گیلانی کے دھڑے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان اور حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے فارمولے کے مطابق حریت کانفرنس کے سید علی شاہ گیلانی کے دھڑے کے چھوٹے چھوٹے گروپ جیسا کہ پیپلز لیگ اور مسلم کانفرنس واپس اصلی پارٹیوں میں شامل ہوجائیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ جو پارٹیاں حریت کانفرنس سے علیحدہ ہوئی تھیں جیسا کہ انجمن شرعی شیعان واپس حریت میں شامل ہو جائیں گی۔ امید کی جاتی ہے کہ کچھ پارٹیاں جیسا کہ محاذ آزادی اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی بھی حریت کانفرنس میں شامل ہو جائیں گی۔

جے کے ایل ایف کے یاسین ملک نے بتایا کہ اگرحریت کانفرنس اور دوسری پارٹیاں اتحاد کر لیں تو وہ بھی حریت کانفرنس میں شامل ہو جائیں گے۔

حریت کانفرنس کے دورے کی اس لیے بھی اہمیت ہے کہ حریت کانفرنس نے مستقبل قریب میں بھارت کی حکومت سے بات چیت کرنی ہے۔ اب وہ بہت زیادہ اعتماد کے ساتھ بات چیت کر سکیں گے۔

مولاناعباس انصاری نے بتایا کہ نئی بھارتی حکومت حریت کانفرنس سے بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ مگر حریت کانفرنس کی شرط تھی کہ پہلے اس کو پاکستان جا کر پاکستانی اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کےرہنماؤں سے بات چیت کا موقع دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے کے بعد امن کے لیے بھارتی رہنماؤں سے بات چیت کے دروازے کھل گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد