کشمیری ادھر بھی بٹے ہوئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف کشمیری رہنماؤں کی آراء بھی دلی میں جاری ہونے والے اعلامیہ کے بارے میں منقسم ہیں۔ کچھ رہنماؤں نے اس کو خوش آئند قرار دیا ہے اور بعض نے اس کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اہم کشمیری رہنما اور حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ سردار عبدالقیوم خان نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان بات چیت اور دونوں ملکوں کے مشترکہ اعلامیہ کو خوش آئند اور اطمینان بخش قراردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ کشمیر کے حل اور دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی طرف بہت بڑی پیش رفت ہے ۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل اور کشمیر میں اعتماد سازی کے اقدامات کے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر نصف صدی سے بھی زیادہ پرانا ہے اور یہ معاملہ فوری طور پر حل نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس کے حل کی طرف قدم بہ قدم ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے ۔ خودمختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دونوں ملکوں نے مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے ارادے کا اعادہ کیا ۔ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہم مسئلہ کشمیر کا وہی حل قبول کریں گے جس کی بنیاد ان کے کہنے کے مطابق کشمیریوں کے غیرمحدود اور غیر مشروط حق خودارادیت پر ہو۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جماعت اسلامی کے سربراہ سردار اعـجاز افضل نے دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان بات چیت اور مشترکہ بیان کو مایوس کن قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی اعتمادسازی کے نام پر بنیادی مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نےاقوام متحدہ سے کہا کہ کشمیری عوام کو پاکستان اور بھارت کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام کرے تاکہ کشمیری عوام آزادانہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں ۔ کئی خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں پر مشتمل کل جماعتی قومی اتحاد یا آل پارٹیز نیشنل الائنس کے سربراہ عارف شاہد نے دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان بات چیت اور مشترکہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کشمیر کے درمیان فوری طور پر تمام قدرتی راستے کھولیں اور کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کو بھی بحال کی جائے۔ اسکے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں فوری طور پر ہر طرح کی فوجی کارروائیاں روک دے اور بھارت کی جیلوں میں قید کشمیریوں کو رہا کرے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کے دونوں طرف شہری علاقوں میں فوجی چھاونیوں کا خاتمہ کر نے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک مل کر کشمیر میں دہشت گردی کا خاتمہ کریں ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل اور کشمیر میں اعتماد سازی کے بارے میں الگ الگ رائے ہوسکتی ہے لیکن اس بات پر تقریباً سب کا اتفاق ہے کہ کشمیریوں کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی شدت سے کیا جارہا ہے کہ کشمیریوں کا اعتماد بحال کرنے اور مسئلہ کشمیر کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے بھارتی حکومت فوری طور پر اپنے زیر انتظام کشمیر میں فوجی کاروائیوں کو روکے، بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو رہا کرے اور شہروں اور قصبوں سے فوج کو واپس بیرکوں میں بلائے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||