BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 June, 2005, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی فرق نہیں پڑے گا: پاکستان

شیخ رشید اور کشمیری رہنما
شیخ رشید کہتے ہیں کہ انہوں نے کشمیریوں کو صرف پناہ دی تھی
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے کی درخواست کی نا منظوری پر کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

دفتر خارجہ نے اس درخواست کی نا منظوری کے حوالے سے کسی بھی طرح کا رد عمل دینے سے انکار کیا۔اس سے لگتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اس معاملے سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھنا چاہتی ہے کیونکہ شیخ رشید ایک وزیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک کشمیری کی حیثیت سے سرینگر جانا چاہتے تھے۔

شیخ رشید سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

بھارتی فیصلے سے کچھ گھنٹے قبل انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے دورے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کا عمل کھٹائی میں پڑ جائے۔

شیخ رشید نے کل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی ہے جس میں صدر نے بھی یہی کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری امن مذاکرات کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔ ان کی صدر سے ملاقات کے بعد سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاکستان کی حکومت شیخ رشید کے دورے کو پاک-بھارت عمل کے تناظر میں نہیں دیکھ رہی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بھارت کی حکومت نے سفارتی ذرائع سے پاکستان کی حکومت کو یہ پیغام دیا تھا کہ شیخ رشید کے بھارت کے زیر انتظام دورے سے کانگریس حکومت کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں کیونکہ حزب مخالف جماعت بی جے پی نے شیخ رشید کے دورے پر مظاہرے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

شیخ رشید کے دورہ سرینگر پر اس وقت ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جب اس ماہ کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کے ایک قومی انگریزی روزنامے میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سے منسوب ایک بیان شائع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں عسکریت کے ابتدائی عرصے میں شیخ رشید کشمیری عسکریت پسندوں کے لیے ایک ٹریننگ کیمپ چلا رہے تھے۔

کشمیر سرحد
دونوں ممالک کو امید ہے کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوں گے

بھارت نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا ہے۔ یاسین ملک اور شیخ رشید دونوں نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔

مسڑ ملک کا کہنا تھا نے انھوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہا کہ شیخ رشید عسکریت پسندوں کو تربیت دینے میں ملوث رہے ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیں خوراک اور پناہ فراہم کی۔

لیکن اس کے فوراً بعد پاکستان کے فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ نے یہ بیان دے دیا کہ شیخ رشید احمد اسلام آباد سے کچھ دور فتح جنگ روڈ پر واقع اپنے فارم ہاؤس پر کشمیری عسکریت پسندوں کے لیے ایک ٹریننگ کیمپ چلاتے تھے جو انیس سو نوے میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کہ کہنے پر بند کروایا گیا ۔

شیخ رشید ان الزامات کی شروع سے تردید کرتے آرہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیری عسکریت پسندوں کو صرف پناہ دی اور کھانا کھلایا۔

66یٰسین ملک کی دلیل
’ٹریننگ فرد واحد کا فیصلہ نہیں ہو سکتی‘
66امان اللہ کا انکشاف
’آئی ایس آئی ہمیں عسکری تربیت دیتی تھی‘
66 کامیاب دورہ پاکستان !
حریت رہنماؤں نے سیز فائر کی راہ ہموار کردی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد