BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 June, 2005, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آئی ایس آئی نے تربیت کی تھی‘

امان اللہ خان
آئی ایس آئی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جے کے ایل ایف کے تنظیمی اور نظریاتی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔
خودمختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے دعویٰ کیا کہ ہے 80 کی دہائی کے آخر میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کشمیری عسکریت پسندوں کو عسکری تربیت دے رہی تھی ۔

امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کی پالیسی کو اس وقت کے پاکستان کے حکمران جنرل ضیاالحق کی حمایت حاصل تھی۔

حکومت پاکستان کشمیری عسکریت پسندوں کو مدد کرنے کے الزامات کی ہمیشہ تردید کرتی رہی ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے سربراہ امان اللہ خان نے یہ دعویٰ اپنی کتاب ’جہد مسلسل‘ کے دوسرے ایڈیشن میں کیا ہے جسکا پہلا ایڈیشن سن 1992 چھپا تھا۔ اس کتاب کی ابھی باضابطہ تقریب رونمائی ہونی ہے۔ امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک سینئیر رہنما ڈاکڑ فاروق حیدر کے ذریعے سن 1987 جے کے ایل ایف سے رابطہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ فاروق حیدر نے خفیہ ادارے کے ساتھ یہ طے کیا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تحریک میں حصہ لینے کے خواہشمند نوجوانوں کو سرحد پار لائےگی اور ان کو اپنی نظریات کی تعلیم دے گی جبکہ ان کو عسکری تربیت اور اسلحہ آئی ایس آئی فراہم کرے گی۔

امان اللہ خان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شورش برپا کرنا تھا۔ امان اللہ خان کا کہنا ہے وہ اُس وقت اس معاہدے میں شامل نہیں تھے جب یہ طے پایا تھا لیکن انہوں نے اس کو اس لئے قبول کیا ان کو بتایا گیا تھا کہ ضیاالحق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے نظریہِ خود مختار کشمیر کے حامی تھے۔

کشمیری رہنما کا کہنا ہے کہ ان کو یاد ہے کہ ضیاالحق نے ایک بار یہ کہا تھا کہ وہ چاہتے کہ کشمیر اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کا رکن بنے جس کا ان کے کہنے کے مطابق صاف مطلب تھا خود مختار کشمیر۔

اسی لئے مسڑ خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ معاہدہ قبول کیا۔اس پیشکش کو قبول کرنے کی دوسری وجہ امان اللہ خان یہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں بیرونی امداد کے بغیر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک شروع کرنے کی کوششں دو بار ناکام ہوچکی تھیں۔

امان اللہ خان
’میرے خیال میں ضیا الحق خود مختار کشمیر کے حامی تھے۔‘

امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ اسوقت کے ڈائریکڑ جنرل آئی ایس آئی جنرل اختر رحمان نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کو یہ کہا تھا کہ آئی ایس آئی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے نظریات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

مسڑ خان کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں آئی ایس آئی کے ایک بریگیڈیر فاروق نے یہ کہا تھا کہ وہ جے کے ایل ایف کو غیرمشروط مدد فراہم کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آئی ایس آئی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے تنظیمی معاملات میں بھی مداخلت نہیں کرے گی اور اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا کوئی بھی رکن جو سیاسی اور سفارتی محاذ پر کام کررہا ہے آئی ایس آئی سے نقد رقم وصول نہیں کرے گا۔

امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ یہ زبانی معاہدہ تھا۔ ان کا کہنا ہے بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے عسکری تربیت حاصل کرنے کے لئے آٹھ نوجوانوں کا پہلا قافلہ فروری سن 1988 میں مظفرآباد پہنچا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو عسکری تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے کہ بعد واپس بھارت کے زیر انتظام کشمیر بھیجا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کو عسکری تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے کہ بعد واپس بھارت کے زیر انتظام کشمیر بھیجا گیا لیکن ان کو یہ کہا گیا کہ پاکستان کے زیر انتظام میں موجود جے کے ایل ایف کے رہنماؤں کی ہدایت کے بغیر وہ کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔

مسڑ خان نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تین رہنماؤں غلام حسن لون ، غلام نبی بٹ اور شیخ محد افضل کو سن 1988 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بلایا گیا اور ان کے ساتھ طویل صلح مشورے کے بعد ہم نے یہ طے کیا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 13 جولائی کو عسکریت کا آغاز کیا جائے گا لیکن بعض وجوہات کی بنیاد پر عسکری تحریک کا آغاز 31 جولائی کو کیا گیا جب سرینگر میں امر سنگھ کلب اور پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف آفس میں دھماکے کئے گئے۔

مسڑ خان نے اس کا کریڈٹ چھ عسکریت پسندوں کو دیا جن میں ہمایوں آزاد، جاوید جہانگیر، شبیر احمد گورو، ارشاد کول، غلام محمد اور محمد رفیق ہیں۔

اس کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے نوجوانوں کاپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آنے جانے کا تانتا بندھ گیا۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما کا کہنا ہے کہ جے کے ایل ایف نے آئی آیس آئی سے سن 1990 میں قطع تعلق کیا جب انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی ایس کے ایک افسر کو ان کی تنظیم کی اجلاسوں میں مبصر کے طور پر بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔

66جے کے ایل ایف متحد
جے کے ایل ایف کی دھڑوں کا انضمام ہو گیا
66امن کی سرحدیں
سچیت گڑھ سرحد کو ’واہگہ‘ بنانے کا منصوبہ
66آپ کی رائے
کشمیری رہنماؤں کے موقف میں تبدیلی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد