BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 March, 2006, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایرانی سرحد تک ریل سروس معطل

ریل گاڑی
بلوچستان میں سرکاری تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے
پاکستان ریلوے نے ایرانی سرحد تک جانے والی ریل سروس غیر معینہ مدت کے لیئے ملتوی کر دی ہے۔

یہ فیصلہ صوبہ بلوچستان میں ریل گاڑیوں اور ریل کی پٹڑیوں پر مسلسل حملوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں ڈویژنل انجینیئر ریلوے نعیم ملک نے بتایا ہے کہ ’فی الحال یہ سروس غیر معینہ مدت کے لیئے ملتوی کر دی گئی ہے لیکن حالات معمول پر آنے کے بعد یہ سروس بحال کر دی جائے گی‘۔

کوئٹہ سے ایرانی سرحد پر واقع پاکستانی شہر تفتان تک ریل گاڑی مہینے میں دو مرتبہ چلتی تھی۔ اس کے علاوہ مال گاڑی کی سہولت بھی دستیاب تھی لیکن اب یہ سروس معطل کر دی گئی ہیں۔

ریل سروس بند
 ’فی الحال یہ سروس غیر معینہ مدت کے لیئے ملتوی کر دی گئی ہے لیکن حالات معمول پر آنے کے بعد یہ سروس بحال کر دی جائے گی
نعیم ملک، ڈویژنل انجینیئر ریلوے

بلوچستان میں گزشتہ دو ہفتوں میں تین ریل گاڑیوں پر حملے کیئے گئے ہیں۔ ان حملوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک فائر مین شامل ہے۔

ان گاڑیوں میں ایک مسافر ٹرین چلتن ایکسپریس پر کوئٹہ سے ستر کلومیٹر دور مچھ کے قریب حملہ کیا گیا تھا جس سے انجن اور دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں۔ اسی روز ایک سروس ٹرین پر سبی ہرنائی سیکشن پر حملہ کیا گیا تھا جہاں فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے اسی طرح گزشتہ ہفتہ کوئٹہ تفتان سیکشن پر نوشکی کے قریب ایک مال گاڑی پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک فائر مین زخمی ہو گیا تھا۔

بلوچستان کے شہر کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں سترہ دسمبر سے جاری مبینہ فوجی کارروائی کے بعد سے قومی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں گیس پلانٹ، گیس پائپ لائن، بجلی کے کھمبے اور ریل کی تنصیبات شامل ہیں۔

بگٹی اور مری قبائلیوں کا کہنا ہے کہ اڑھائی ماہ سے جاری اس کارروائی میں اب تک تقریباً دو سو افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں لیکن سرکاری سطح پر خواتین اور بچوں کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا تھا کہ خواتین اور بچوں کی ہلاکت کی خبریں درست نہیں ہیں البتہ مسلح قبائلی ہلاک ہو سکتے ہیں لیکن ان کے پاس اس بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد