BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 20:04 GMT 01:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کلپروں کو فوج لائی ہے، بگٹی کو بھاگنا ہوگا‘

ڈیرہ بگٹی
ڈیرہ بگٹی میں راکٹ باری معمول بن چکی ہے
ڈیرہ بگٹی ضلع میں نواب اکبر بگٹی کے انٹرویو کے بعد جیسے ہی فرنٹیئر کور کے قلعے میں پہنچے تو راکٹوں کی بارش ہو رہی تھی اور اہلکاروں سمیت سب لوگ دبک کر بیٹھ گئے تھے۔

تقریباً ایک گھنٹے کی مسلسل راکٹ باری کے بعد فائرنگ کا سلسلہ تو بند ہوگیا لیکن بارود کی بو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اتنی تعداد میں فائر ہونے والے راکٹوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی راکٹ ایف سی قلعے کے دفاتر اور دیگر اہم جگہوں پر گرا۔ ایسی صورتحال کی وجہ سے ایک لمحے کے لیے شک ہوا کہ کہیں ایف سی والوں نے بگٹیوں کو بدنام کرنے کے لیے خود تو یہ راکٹ فائر نہیں کیے۔

رات کو کھانے پر ’ایف سی‘ کے افسران نےجو کہ حاضر سروس فوجی ہیں، اکبر بگٹی سے ملاقات کی تفصیلات پوچھیں کہ ان کی صحت کیسی تھی، کتنے لوگ ساتھ تھے، کس جگہ ملے وغیرہ وغیرہ۔ مگر میں نے ان سے معذرت کر لی۔

ایسی صورتحال کے بعد انہوں نے فوج کے سیاسی کردار کے بارے میں خود ہی بحث چھیڑ دی۔ فوجی افسران کا دعویٰ تھا کہ فوج ہرفن مولیٰ ہے اور ایک منظم ادارہ ہونے کی وجہ سے سیاست سے لے کر ملکی دفاع کے کاموں تک ہر کام احسن طریقے سے انجام دے سکتی ہے۔

علاقے میں موجود ایف سی کے جوان پوزیشنیں سنبھالے ہوئے

بحث کے دوران کافی نرمی گرمی بھی ہوتی رہی اور فوج میں کرپشن کے سوال پر ایک نوجوان کیپٹن الجھ پڑے اور ان کا دعویٰ تھا کہ فوج ایک شفاف ادارہ ہے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ ہر سال آڈیٹر جنرل آف پاکستان دفاعی بجٹ کا آڈٹ کرکے جو رپورٹ دیتے ہیں اگر اس کا جائزہ لیا جائے توگزشتہ دس برسوں میں اربوں روپے کی بدعنوانی کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور متعلقہ افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

کچھ دیر بعد وہ چلے گئے اور کرنل فرقان کے سٹاف افسر کے کمرے میں بیٹھے افسران مجھے برا بھلا کہتے ہوئےکہہ رہے تھے کہ ’یہ ہمارے قلعہ میں بیٹھ کر ہمارے خلاف بول رہا ہے‘۔

کرنل فرقان کے سیکرٹری نے اکبر بگٹی کی تازہ تصاویر مانگیں تاکہ وہ جگہ، ماحول اور ان کی صحت کے بارے میں اندازہ لگا سکیں۔ انکار کے باوجود وہ اصرار کرتے رہے اور ایک تصویر انہیں دینی پڑی۔ یہ تصاویر ویسے بھی بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع ہو چکی ہیں۔

 ’اکبر خان بگٹی بہت چالاک آدمی ہیں ۔ پتہ ہے انہوں نے ڈیرہ بگٹی ضلع کے تمام سرحدی اضلاع کے جتنے بھی طاقتور سردار ہیں ان سے رشتے کر رکھے ہیں تاکہ مشکل وقت میں وہ ان سے مدد لے سکیں‘
عبدالصمد لاسی

ایف سی قلعہ میں رات گزارنے کے بعد صبح سوئی کے لیے روانگی سے قبل کرنل فرقان اور ان کے ساتھی افسران کا شکریہ ادا کرکے اجازت مانگی اور سوئی کے لیے نکلے۔ پونے گھنٹے کے سفر کے بعد سوئی پہنچے تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے دائیں جانب تعمیراتی کام تیزی سے جاری تھا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ یہ سوئی کی فوجی چھاؤنی بن رہی ہے۔ تصویریں بنانے کے بعد شہر کی طرف روانگی ہوئی۔

راستے میں ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ضلع رابطہ افسر کے دفتر میں ملازم ہے اور ان کی تین ماہ سے تنخواہیں بند ہے۔ انہوں نے فرمائش کی کہ انہیں تنخواہیں دلانے کی سفارش کروں۔ خیر ضلع رابطہ افسر عبدالصمد لاسی کے دفتر پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ دفتر بہت کم آتے ہیں اور اکثر اوقات فوج کے زیرانتظام انتہائی ’ہائی سیکورٹی زون‘ یعنی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی کالونی میں رہتے ہیں۔

ہماری آمد کی اطلاع پر انہوں نے اپنی سرکاری گاڑی بھیجی اور کہا کہ کوئی بھی نجی گاڑی اس علاقے میں مشکل سے داخل ہوتی ہے۔ ضلع رابطہ افسر کی سرکاری گاڑی کے باوجود ’ڈیفنس سکیورٹی گارڈز‘ نے روک لیا اور آدھےگھنٹے کی تحقیقات کے بعد اندر جانے دیا۔ سخت سکیورٹی دیکھ کر ذہن میں خیال آیا کہ جب ’ڈی سی او‘ کی گاڑی اور اجازت کے باوجود اتنی تلاشی ہے تو ڈاکٹر شازیہ کیس کا مجرم اس علاقے میں کیسے داخل ہوا ہو گا۔

عبدالصمد لاسی کو کمپنی کی فراہم کردہ عام سی رہائش گاہ پہنچے تو دیکھا کہ تین کمرے والے اس گھر میں ’ڈی سی او‘ کا دفتر اور بیڈ روم ایک ہی ہے جہاں دو فون ہیں اور وہیں سے وہ پورے ضلع کا انتظام چلاتے ہیں۔ بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ عبدالصمد لاسی گریڈ سترہ کے افسر ہیں اور محکمانہ امتحان پاس نہ کرنے کی وجہ سے ترقی سے محروم ہوگئے لیکن اس کے باوجود بھی اب بیس گریڈ کے عہدے پر تعینات ہیں۔

شدت پسندوں سے پکڑے گئے ہتھیار و گولہ بارود

لاسی صاحب نے کہا’اس ملک میں ایک صدر مشرف ہیں اور دوسرا میں جن کے پاس بہت عہدوں کا چارج ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی افسر اس ضلع میں تعیناتی اور فوجی چھاؤنی کے لیے زمین الاٹ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور ایسے حالات میں انہوں نے عہدہ سنبھالا اور چار سو ایکڑ زمین سوئی چھاؤنی کے لیے الاٹ کردی جس پر اب کام تیزی سے جاری ہے۔

عبدالصمد لاسی نے بہت سی معلومات پوچھے بنا ہی بتا دیں کہ اس چھاؤنی کے لیئے دی گئی زمین کے مالکان بگٹی کے ڈر کی وجہ سے پیسے نہیں لے رہے اور کروڑوں روپوں اب بھی سرکاری خزانے میں پڑے ہیں۔ ان کے مطابق چھاونی بننے سے نواب بگٹی کی سرداری ختم ہوجائے گی اور لوگوں کو سکون ملے گا اور یہاں صنعتیں لگیں گی اور خوشحالی آئے گی۔

بات چیت کے دوران لاسی نے کہا ’اکبر خان بگٹی بہت چالاک آدمی ہیں ۔ پتہ ہے انہوں نے ڈیرہ بگٹی ضلع کے تمام سرحدی اضلاع کے جتنے بھی طاقتور سردار ہیں ان سے رشتے کر رکھے ہیں تاکہ مشکل وقت میں وہ ان سے مدد لے سکیں‘۔

 اس ملک میں ایک صدر مشرف ہیں اور دوسرا میں جن کے پاس بہت عہدوں کا چارج ہے۔
ڈی سی او، لاسی

انہوں نے بتانا شروع کیا کہ ضلع سبی کے طاقتور قبیلہ ڈومکی ہو یا بارکھان ضلع کے سردار، کوہلو ضلع کے نواب مری ہوں یا راجن پور اور کشمور کے مزاری ان سب کے ساتھ بگٹی نے رشتے دیے بھی ہیں اور لیے بھی ہیں۔ جبکہ ان کے مطابق ’جمہوری وطن پارٹی کے رکن قومی اسمبلی حیدر بگٹی اور ترجمان شاہد بگٹی نواب بگٹی کے داماد اور بھانجے بھی ہیں۔ دونوں کے داداؤں کو نواب نے قتل کرایا اور ان کے والدوں کو صلح کے بدلے اپنی بہنیں رشتے میں دیں‘۔

’ڈی سی او‘ نے تسلیم کیا کہ امن و امان خراب ہونے اور بگٹی قبائل کے ڈر کے مارے انہوں نے ضلعی دفاتر ڈیرہ بگٹی سے سوئی منتقل کر لیے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ ’میں کامریڈ آدمی ہوں جو کام پندرہ سال میں نہیں ہو سکا وہ پندرہ ماہ میں کر لیا اور اب میرے تعلقات بڑے لوگوں سے ہیں اور میں بلوچستان کے عوام کی قسمت بدل دوں گا‘۔

اکبر بگٹی کے مخالف کلپر قبیلے کے افراد کی سرکاری سرپرستی میں آبادکاری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’اب آگے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتیں کلپروں کو لاتی تھیں اور بعد میں اکبر بگٹی سے سمجھوتہ ہونے کے بعد کلپروں کو پھر بھاگنا پڑتا تھا لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا اور اب اکبر بگٹی کو بھاگنا ہوگا کیونکہ اب کلپروں کو فوج لائی ہے۔

انتہائی سکیورٹی زون میں کمپنی کے کوراٹرز میں ٹھہرائے ہوئے کلپر خاندانوں سے ملاقات ہوئی تو ہر خاندان نے اپنے اوپر ہونے والے اکبر بگٹی کے مبینہ مظالم کی علیحدہ علیحدہ داستانیں سنائیں۔ کسی نے بھائی تو کسی نے بیٹے اور کسی نے شوہر کے مارے جانے اور نجی قید میں بند کرنے کے قصے سنائے۔

ان کی باتیں سن کر نواب اکبر بگٹی کے ایک نئے روپ کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہ کلپر بنیادی طور پر سوئی کے علاقے کے رہائشی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی کے مظالم کی وجہ سے وہ برسوں سے دربدر ہیں اور حکومت تین سو روپے ماہانہ فی کس انہیں معاوضہ دیتی ہے۔

 ماضی میں حکومتیں کلپروں کو لاتی تھیں اور بعد میں اکبر بگٹی سے سمجھوتہ ہونے کے بعد کلپروں کو پھر بھاگنا پڑتا تھا لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا اور اب اکبر بگٹی کو بھاگنا ہوگا کیونکہ اب کلپروں کو فوج لائی ہے۔

بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخوں کلپر اور مسوری سے تعلق رکھنے والے افراد کے اختلافات اور الزامات کے بارے میں نواب بگٹی ہوں یا ان کے داماد اور ترجمان شاہد بگٹی وہ یہ کہتے ہوئے بات نہیں کرتے کہ یہ ان کے قبیلے کا اندرونی معاملہ ہے اور اس وقت وہ صوبے کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

بگٹی قبیلے کے بیشتر افراد نے دو سے تین شادیاں کر رکھی ہیں اور ان کی اولاد بھی بہت زیادہ ہے۔ نواب بگٹی کی خود کی بھی دو بیویاں ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کی ڈیڑھ شادی ہے۔ ایک کلپر قبیلے کے شخص جس کے تین بیویوں سے نو بیٹوں سمیت سترہ بچے ہیں، انہوں نے کہا ’ ہم قبائلی لوگ ہیں مشکل علاقوں اور حالات میں رہتے ہیں۔ ایک دو بچے بیماریوں کی وجہ سے جبکہ دو تین قبائلی جھگڑوں میں مر جاتے ہیں اس لیے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں کہ نسل تو چلنی چاہیے نہ‘۔

شام گئے واپس’ڈی سی او‘ کی رہائشگاہ پہنچے اور باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد گپ شپ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے بگٹی سے ٹکر لی ہے تو کیا ڈر نہیں لگتا؟۔ ان کا کہنا تھے کہ ’ڈرنے والا نہیں ہوں۔ کیا کر لےگا۔ قتل کرائے گا نہ۔ ویسے بھی مرنا ہے۔ مر جاؤں گا۔ لوگ اور حکومت یاد تو کریں گے‘۔

ابھی بات چت جاری تھی کہ فون کی گھنٹی بجی اور جیسے ہی انہوں نے فون اٹھایا تو ان کی بیگم نے اطلاع دی کہ ان کے گھر بم دھماکہ ہوا ہے۔ ( چوتھی قسط ختم ہوئی،سلسہ جاری ہے)

اکبر بگٹی بگٹی کی پیش گوئی
بگٹی نے ہڈی میں کیا دیکھا؟
ڈیرہ بگٹیبگٹی قلعے میں
ایف سی چیک پوسٹ، نسوار اور بگٹی قلعہ
نواب اکبر خان بگٹی بگٹی کا چھُپا ہوا روپ
عاشق مزاج، نکاح خواں اکبر بگٹی
اسی بارے میں
بلوچستان کے ویرانوں میں
13 February, 2006 | پاکستان
بلوچستان کے ویرانوں میں
10 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد