بلوچستان کے ویرانوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈرائیور کو دلاسہ دیا اور کہا کہ بھائی اب تو آگئے ہیں گھبرائیے نہیں اللہ بہتر کرے گا۔ آگے گئے تو ریتیلا راستہ ختم ہوا اور پھر پتھریلا کچا راستہ شروع ہوا۔ ڈرائیور نے کہا کہ یہاں سے گاڑی نہیں جاسکتی۔ ہم اندھیرے میں پریشان کھڑے بگٹی کے لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش میں تھے کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا اور اپنا نام لونگ بگٹی بتایا اور کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ہم نواب اکبر بگٹی کے مہمان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ہوا آپ یہاں آئے اگر دوسری طرف جاتے تو ایف سی کا چیک پوسٹ ہے اور وہ آپ کو پکڑ لیتے۔ لونگ نے بتایا کہ یہاں سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد بگٹی قلعہ میں پہنچ جائیں گے اور یہ راستہ محفوظ ہے۔ سو کلومیٹر کا انتہائی دشوار گزار اور خستہ حال رستہ آٹھ گھنٹے میں طے کرکے اس جگہ پہنچے تھے۔ لیکن لونگ کے مشورے کے برعکس ہم نے گاڑی موڑی اور فیصلہ کیا کہ ایف سی کے چیک پوسٹ سے گزریں گے۔ پونے گھنٹے بعد ہم سنگسیلا چیک پوسٹ پر پہنچے۔ یہاں ایف سی کا چھوٹہ قلعہ بنا ہوا ہے۔ گاڑی کی لائٹ دیکھ کر ایف سی کے اہلکار چوکس ہوگئے اور سڑک پر رکاوٹ کی وجہ سے گاڑی روکی تو تین اہلکاروں نے بندوقیں تان کر گھیر لیا۔ تعارف کرانے پر ان کے رویے میں یکدم ہی تبدیلی محسوس ہوئی۔ ایک سپاہی نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے اس طرف سے کوئی گاڑی نہیں گزری۔ انہوں نے بی بی سی کی تعریفیں شروع کردیں اور کہا کہ اس جنگل میں ان کی معلومات کا واحد ذریعہ ریڈیو ہے۔ اس دوران وہ کرسیاں لے آئے اور بتایا کہ میجر صاحب گشت پر ہیں انہیں اطلاع کردی ہے۔ دس منٹ بعد میجر آئے اور وہ اندر قلعے میں لے گئے۔ یہاں بجلی نہیں تھی اور لال ٹین جل رہی تھیں۔ میجر نوید کا تعلق راولپنڈی سے تھا جبکہ کیپٹن ڈاکٹر بھکر کے تھے۔ انہوں نے چائے پلائی اور کرنل فرقان کو مطلع کیا اور انہوں نے ڈیرہ بگٹی شہر جانے کی اجازت دے دی۔ ہم نواب بگٹی کے آدمیوں سے رابطے میں تھے اور انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ اگر ایف سی والے سنگسیلا سے نہ چھوڑیں تو وہ انتظام کریں گے۔ لیکن اس کی نوبت نہیں آئی۔ سنگسیلا سے ڈیرہ بگٹی شہر تک درمیان میں آٹھ دس کلومیٹر کا علاقہ بگٹیوں کے قبضے میں ہے اور سنگسیلا چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں کو راشن وغیرہ لانے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ ہمیں اگلے دن اکبر بگٹی سے ملنے اسی علاقے میں آنا تھا۔ میجر نوید نے کہا کہ اگر آپ آئیں تو مہربانی کرکے ہمارے لیے سگریٹ اور دیگر سامان، جو آپ کو ڈیرہ بگٹی میں واقع ایف سی کے ہیڈ کوارٹر سے مل جائے گا، وہ ساتھ لائیے گا۔ ہم نے اس وقت حامی بھرلی۔ ڈیرہ بگٹی شہر سے پہلے ایف سی کے چیک پوسٹ پر جامع تلاشی ہوئی اور پورے سامان میں کی بغور تلاشی کے بعد ہمیں جانے دیا۔ شہر میں پہنچے تو ایف سی چیک پوسٹ والوں نے روکا اور کہا کہ پہلے ان کے قلعہ یعنی ہیڈ کوارٹر جانا پڑے گا۔ ایف سی کے کرنل فرقان اور ان کے جونیئر افسر ہمارے منتظر تھے۔ کرنل صاحب خاصے جارحانہ موڈ میں تھے اور کہنے لگے اکبر بگٹی صحافیوں کو خرید لیتے ہیں اور فلاں صحافی کو حال ہی میں ڈیڑھ لاکھ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا صحافی کیا انسانی حقوق کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر کو بھی انہوں نے خرید لیا ہے اور انہیں ساٹھ لاکھ روپے دیے اور وہ دو سوٹ کیس بھر کر گئی ہیں۔ کرنل کی باتیں سن کر اندر ہی اندر غصہ بھی آیا اور ہنسی بھی لیکن کوئی تاثر دیے بنا کرنل سے کہا کہ یہ تو بڑی بات ہے کہ عاصمہ جہانگیر ساٹھ لاکھ میں بک گئی ہیں!۔ میں نے ٹیپ نکالا اور کرنل کے قریب پہنچ گیا جی کرنل صاحب ابھی آپ بتا رہے تھے کہ عاصمہ جہانگیر اور صحافیوں کو بگٹی نے خرید رکھا ہے؟ کرنل نے کہا کہ میں ’آن دی ریکارڈ، نہیں کہہ سکتا۔ دیکھیں میں ذمہ دار افسر ہوں اور بغیر ثبوت کے کیسے بولوں۔۔ پلیز آپ مشین بند کریں۔ انہوں نے ٹیپ بند کرنے کے بعد پھر بولنا شروع کیا اور کہا کہ انہیں اپنے جونیئر افسر نے بتایا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کو ساٹھ لاکھ روپے ملے ہیں اور عاصمہ کے ڈرائیور نے انہیں بتایا تھا کہ بیگم صاحبہ دو سوٹ کیس خالی لائیں تھیں۔ میں نے کرنل سے کہا کہ میں بھی خاصے دنوں سے سفر میں ہوں اور اگر آپ بگٹی سے ملاقات کرنے کی اجازت دیں تو جو رقم ملے گی آپ کے ساتھ بانٹ لوں گا!! اس پر جونیئر افسر مسکراتے ہوئے کمرے سے نکلے اور کرنل صاحب نے ایک لمحے کے لیے کچھ محسوس کیا۔ ہم نے کرنل سے اجازت لی اور وہ گاڑی تک چھوڑنے آئے اور سنگسیلا چیک پوسٹ والوں کے لیے سگریٹ اور نسوار سمیت کچھ اشیاء ایک چھوٹی بوری میں ڈال کر ہماری گاڑی میں رکھ دیں۔ اس دوران اکبر بگٹی نے فون کرکے ہمارے کوئٹہ کے ساتھی عزیز اللہ سے کہا کہ آپ کا بندہ دو تین گھنٹے سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں ہے اور پتہ کریں کہیں انہیں حراست میں تو نہیں لے لیا۔ خیر وہ پریشان ہوئے اور ظفرعباس کو بھی مطلع کیا وہ بھی پریشان ہوگئے۔ ہم جیسے ہی بگٹی قلعہ کی طرف روانہ ہوئے تو ایک ٹرالی سڑک پر کھڑی تھی اور اس کے پیچھے ان کے مسلح لوگ موجود تھے۔ انہوں نے اپنی بندوقوں کے رخ ہماری طرف کر رکھے تھے اور میں ہاتھ اوپر کرکے باہر نکلا اور انہیں تعارف کروایا اور انہوں نے کہا کہ خیر ہے خیر ہے جاؤ۔ رات کو بگٹی قلعہ میں سوئے اور اچانک تین بجے ایک بڑا دھماکہ ہوا اور آنکھ کھل گئی۔ اٹھ کر بیٹھ گیا تو اچانک خیال آیا کہ کہیں ایف سی والوں نے سگریٹ اور نسوار کی بوری میں قابل اعتراض اشیا تو نہیں رکھیں اور صبح کہیں چیک پوسٹ پر خود ہی پکڑ لیں۔ اتنے میں دھماکوں کی آوازوں میں اضافہ ہوگیا اور یکے بعد دیگرے دھماکے ہوتے رہے۔ دھماکوں کے شور اور ایف سی کی بوری نے پریشان کردیا اور نیند اڑ گئی۔( جاری ہے) | اسی بارے میں ڈیرہ بگٹی: فوج کی دو گاڑیاں تباہ 09 February, 2006 | پاکستان بارودی سرنگ پھٹنے سے3 ہلاک10 February, 2006 | پاکستان بلوچستان: ایف سی کے دو اہلکار ہلاک11 February, 2006 | پاکستان بلوچستان:’بارودی سرنگوں کےدھماکے‘11 February, 2006 | پاکستان بلوچستان:گیس فیلڈ پرحملہ،گیس بند12 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||