بلوچستان کے ویرانوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمارے سامنے پہاڑیاں اور عقب میں میدانی علاقہ تھا۔ برساتی نالے گوڑی کے بائیں کنارے پر فرنٹیئر کور یعنی ’ایف سی‘ کے مورچہ زن اہلکار نے بندوق کا رخ ہماری طرف کیا اور ان کے ساتھی نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا اور ایک ہی سانس میں کئی سوالات کر دیے کہ ’کون ہو ۔۔ کہاں سے آئے ہو۔۔ کہاں جا رہے ہو؟‘ یہ بلوچستان کے ضلع سِبی کی آخری تحصیل لہڑی تھی جہاں سے ڈیرہ بگٹی کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ تعارف کرانے پر دبلے پتلے اور لمبے قد والے سانولے رنگ کے پشتون اہلکار نے اردو میں کہا کہ تم وہ ہی ہو نہ جس نے کل کرمو وڈھ میں ہمارے ایف سی والوں کے خلاف رپورٹ دی تھی!۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور اس دوران دو تین دیگر اہلکار بھی پہنچ گئے لیکن ان کے لہجے میں کرختگی کے بجائے ہمدردی محسوس ہوئی۔ ’بی بی سی والے ادھر بھی پہنچ گئے۔‘ ایک سپاہی نے حیرت اور خوشی سے پوچھا۔ میں نے کہا جی ہاں اور میں ڈیرہ بگٹی جانا چاہتا ہوں۔ ہلکی داڑھی چھوٹے قد اور موٹے سپاہی نے کہا ’بھائی وہاں راستہ خراب ہے، بگٹی کے حامیوں نے بارودی سرنگ بچھا رکھے ہیں اور میری مانو تو واپس جاؤ‘۔ ایف سی کے اہلکار نے ایک ہی جملے میں ہمدردی بھی کی اور مزید خوفزدہ بھی کیا۔ خوف زدہ تو ہم پہلے سے ہی تھے کیونکہ سبی سے کوئی کرائے کی گاڑی والا بارودی سرنگوں اور حالات کی سنگینی کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی جانے کے لیے تیار ہی نہیں تھا اور بمشکل ایک تراسی ماڈل ٹویوٹا کرولا والا سندھی ڈرائیور راضی ہوا۔ سبی، نصیر آباد، ڈیرہ مراد جمالی اور صوبہ سندھ کے دیگر سرحدی بلوچستان کے اضلاع میں کم بیش سب ہی لوگ سندھی زبان بولتے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے تین گھنٹے میں طے کرکے سبی پہنچے اور وہاں سے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان جانا چاہا لیکن کرمو وڈھ میں ایف سی والوں نے روک لیا اور آگے جانے نہیں دیا۔ رات سبی میں گزارنے کے بعد صبح ڈیرہ بگٹی کا رخ کیا۔ سبی سکاؤٹس کی اجازت کے بعد ڈیرہ بگٹی کی حدود میں پہاڑی سلسلے میں داخل ہوئے اور جیسے ہی ایک موڑ کاٹا تو ایک نوجوان پہاڑ سے نیچے آیا اور روک کر ہمارے بارے میں سوالات کرنے کے بعد جانے دیا۔ ایک سو کلومیٹر کے پہاڑی، کچے، پتھریلے اور بل کھاتے راستے میں کئی مقامات پر نواب اکبر بگٹی کے حامی موٹر سائیکلوں اور اونٹوں پر جدید اسلحہ، وائرلیس اور تھرایا سیٹ اٹھائے نظر آئے۔ کئی پہاڑی چوٹیوں پر مورچے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ بکریوں اور دنبوں کے ریوڑ والے بھی ملے جہاں چرواہوں کے کندھوں پر کلاشنکوفیں لٹکی ہوئی تھیں۔ ایک جگہ باریش آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کو کہا اور بلوچی زبان میں بولنا شروع کردیا۔ گاڑی سے اترے تو دائیں کنارے اجرک اوڑھے ایک بابا جی کھانس رہے تھے اور ان کے ساتھ ایک نوجوان بھی بیٹھا تھا۔ اس کے مطابق وہ کہہ رہے تھے کہ حکومتی فورسز نے ظلم کیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی شہر ویران ہے ہسپتال بند ہیں اور ان کے بیمار والد کو دوائی نہیں ملتی۔ میں اردو میں سوال کرتا رہا اور وہ بلوچی میں جواب دیتا رہا۔ جب ان سے پوچھا کہ اردو کیوں نہیں بولتے تو انہوں نے کہا انہیں اردو نہیں آتی۔ میں نے پوچھا کہ سوال کیسے سمجھ رہے ہو؟ جاتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو پتہ کیسے چلا کہ ہم آرہے ہیں۔ اس پر ان کی ہلکی مسکراہٹ نے میرا شک مزید پختہ کردیا۔ واضح رہے کہ یہ پورا علاقہ مکمل طور پر بگٹی کے قبضے میں ہے اور کوئی دوسرا آدمی ان کی اجازت کے بنا وہاں سے گزر ہی نہیں سکتا۔ اکبر بگٹی کے حامی تھرایا فون پر رابطے میں تھے اور سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے انہوں نے بتایا کہ نواب صاحب آپ سے کل صبح ملیں گے۔ ایک جگہ ہم راستہ بھٹک گئے اور دس سے بارہ کلومیٹر غلط سمت میں چلے گئے۔ اس طرف ریت ہی ریت تھی اور ایک جگہ گاڑی پھنس گئی۔ یہاں سورج غروب ہوگیا اور اندھیرا چھا گیا۔ ڈرائیور نے کہا پتہ نہیں سر میری کیوں مت ماری گئی کہ آپ کے ساتھ آیا۔ |
اسی بارے میں عاشق مزاج، نکاح خواں اکبر بگٹی08 February, 2006 | پاکستان ’دعووں کی تصدیق ممکن نہیں‘31 January, 2006 | پاکستان نڑ ساز کی جگہ تھرایا فون24 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||