عاشق مزاج، نکاح خواں اکبر بگٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بگٹی قبیلے کے سردار نواب اکبر خان بگٹی کے متعلق یہ کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ وہ قبائلی سربراہی کے ساتھ ساتھ ایک نکاح خواں بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے پہاڑی علاقے میں، جہاں وہ ان دنوں ایک لحاظ سے روپوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، ہونے والی ملاقات میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اپنے خاندان میں ہونے والی کئی شادیوں میں نکاح انہوں نے خود پڑھائے ہیں۔ اکبر خان بگٹی کی داڑھی اور مونچھیں دودھ کی طرح سفید ہوچکی ہیں اور چلنے پھرنے میں اب انہیں سہارا لینا پڑتا ہے۔ لیکن پھر بھی جہاں ڈیرہ ڈالتے ہیں وہاں کلاشنکوف ساتھ رکھتے ہیں۔
جب ان سے شادی کے وقت پڑھائی جانے والی آیات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ شادی رضامندی سے ہونے والا ایک معاہدہ ہے اور اس کے لیے آیات وغیرہ پڑھنا ضروری نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے اہل خانہ میں جتنی بھی شادیوں میں انہوں نے نکاح پڑھائے ہیں اس دوران انہوں نے کسی بھی نکاح کے دوران نہ آیات پڑھیں اور نہ ہی دولہے کو پڑھائیں۔ البتہ نواب بگٹی نے بتایا کہ لڑکے اور لڑکی سے انہوں نے رضامندی ضرور معلوم کی اور دونوں سے پہلے پوچھا کہ فلاں دولہا اور فلاں دلہن انہیں قبول ہیں یا نہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے اہل خانہ یا قبیلے کے مردوں اور لڑکیوں کو پسند کی شادی کا حق دیتے ہیں تو انہوں نے ساٹھ سے زیادہ اپنے قبیلے کے مسلح افراد کی موجودگی میں کہا کہ ’ہاں ۔۔۔۔ لیکن قبائلی روایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پسند کی شادی کے وہ حامی ہیں،۔ اکبر بگٹی کہتے ہیں کہ بلوچ ہو اور عشق نہ کرے ایسا ممکن نہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے بھی کوئی عشق کیا تو ۔۔ ہنس پڑے اور تسلیم کیا کہ ان کا عشق بس عشق ہی رہا۔ اپنے عشق کی کامیابی کا اقرار یا انکار کیے بنا انہوں نے کہا کہ عشق اگر عشق ہی رہے تو ٹھیک ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عشق اگر حاصل ہوجائے تو پھر وہ عشق نہیں رہتا اور حصول عشق سے آدمی اپنی عمر سے پانچ برس بڑا ہی محسوس کرنے لگتا ہے۔ بگٹی قبیلے کے بیشتر افراد نے دو سے تین شادیاں کر رکھی ہیں اور خود اکبر خان بگٹی نے بھی دو شادیاں کی ہوئی ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’میری ڈیڑھ شادیاں ہیں،۔ اکبر بگٹی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی آدھی بیوی پہلی ہیں یا دوسری۔ |
اسی بارے میں ’سرداروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘06 February, 2006 | پاکستان بگٹی قلعے میں دھماکے؟07 February, 2006 | پاکستان ’بگٹیوں نے قلعہ خالی کردیا‘07 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||