BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 January, 2006, 21:27 GMT 02:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی میں خاموشی رہی

نواب اکبر بگٹی کے مسلح گارڈ حفاظت پر معامور
نواب اکبر بگٹی کے مسلح گارڈ حفاظت پر معامور
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں سوموار کو خاموشی رہی جبکہ سوئی میں نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں نے گیس کمپنی کے لیے کام کرنے والی گیارہ گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔

سیاستدانوں اور صحافیوں کے وفد کی روانگی سے پہلے ڈیرہ بگٹی میں فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ رک گیا ہے۔ آج ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں خاموشی رہی اور کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے ایک واقعے میں بگٹی قبیلے کے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

 نواب اکبر بگٹی نے فوجی کارروائی سے چند ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ ایک اور فوجی کارروائی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ سوئی میں کچھ گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے جن کے کاغذات کی پڑتال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ علاقے میں زیادہ تر گاڑیوں کے کاغذات نہیں ہیں بلکہ جعلی کاغذات حاصل کیے گئے ہیں جس کے خلاف علاقے میں ایک مہم شروع کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہے کہ جب سے ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں شروع ہوئی ہیں لگ بھگ نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مشکوک افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے لیکن تفتیش کے بعد بے گناہ لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے بیس سے پچیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن گیارہ گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا ہے یہ گاڑیاں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ پی پی ایل کے لیے کافی عرصہ سے کام کر رہی تھیں۔

کوہلو میں ایک مسلح گارڈ

کراچی سے سیاستدانوں اور صحافیوں کا وفد کل ڈیرہ بگٹی پہنچے گا جہاں صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ انتظامیہ اور بگٹی قبائل کے دعووں کو پرکھا جا سکے۔ حکومت یہ دعوی کر رہی ہے کہ سکیورٹی فورسز تنصیبات کے دفاع کے لیے موجود ہیں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے اور یہ کہ سکیورٹی فورسز اس وقت جوابی کارروائی کرتی ہیں جب ان پر حملہ ہوتا ہے۔

اس کے برعکس مقامی لوگ اور جمہوری وطن پارٹی کے قائدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اندھا دھند بمباری اور گولہ باری کر رہی ہیں جس میں اکیس دنوں میں کوئی پینسٹھ افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں ۔

ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ سال مارچ میں ایف سی اور بگٹی قبیلے کے مسلح افراد میں جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں نواب اکبر بگٹی کے مطابق تیس ہندووں سمیت ستر شہری ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد مذاکرات کے ذریعے دونوں جانب سے مورچے خالی کرا لیے گئے تھے اور اعتماد سازی کے لیے کوششوں پر زور دینے کے لیے کہا گیا تھا لیکن گزشتہ ماہ ڈیرہ بگٹی کے قریبی علاقے کوہلو میں فوجی کارروائی سے کچھ روز پہلے اچانک ایف سی نے دوبارہ مورچوں پر قبضہ کرلیا۔

نواب اکبر بگٹی نے فوجی کارروائی سے چند ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ ایک اور فوجی کارروائی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ کوہلو میں صدر جنرل پرویز مشرف کے دورے کے دوران راکٹ داغنے کو بنیاد بنا کر فوجی کارروائی کی گئی لیکن ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کی کارروائی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی محض یہ کہا گیا کہ بگٹی قبیلے کے مسلح لوگ ان پر حملہ کرتے ہیں تو وہ ان کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہیں۔

حملے کا ذمہ دار کون؟
’عاصمہ پرحملہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے کیا‘
بلوچستان میں قبائلیکوہلو: لڑائی جاری ہے
دوسرے روز بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا
یوسف مریمفادات کی جنگ
بلوچستان: حقوق کی نہیں، مفادات کی جنگ
اسی بارے میں
فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرے
23 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد