بلوچستان: فائرنگ جاری، آٹھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے کوہلو کاہان میں دوسرے روز بھی فوج کے جنگی جہازوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی جانب سے بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔ کوہلو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دو دن کی بمباری سے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔اس کے علاوہ بیس افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر اسکی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔ ادھر کوئٹہ کے مشرق میں ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر مچھ کے علاقے مارگٹ میں پاکستانی فوج اور بلوچ لبریشن آرمی کے مسلح آدمیوں کے درمیان جاری لڑائی کے بعد جمعہ کو پاکستان فوج کے تین نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں جبکہ دو زخمی حالت میں پائے گئے ہیں جنہیں سی ایم ایچ کوئٹہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ البتہ بلوچستان کے دیگر شہروں میں آج دوسرے دن بھی خاموشی رہی اور کسی جانب سے فائرنگ کی اطلاع نہیں ملی۔گیس کے ذخائر سے مالا مال سوئی شہر میں آج تیسرے روز بھی ہڑتال رہی۔ یہ ہڑتال عید کے دن اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان فورسز نے سیسنا طیارے کے ذریعے پمفلٹ گرائے جس میں بگٹی قبیلہ کے لوگوں کو اپنے سردار اکبر بگٹی کے خلاف بغاوت کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سوئی میں بگٹی ہاؤس پر قبضہ کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہروں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہوتے ہیں اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بگٹی ہاؤس پر فوج کا قبضہ ختم کیا جائے اور بگٹی سرداروں کو آپس میں لڑانے کی سازش بند کی جائے۔ اس سلسلے میں سوئی کے ڈی سی او عبد الصمد لاسی نے حکومتی موقف بتاتے ہوئے کہا کہ بگٹی ہاؤس پی پی ایل کی ملکیت ہے اور اس پر نواب اکبر بگٹی نے گذشتہ دس سالوں سے قبضہ جما رکھا تھا۔ دوسری جانب کوئٹہ میں جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری شاہد بگٹی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظمیوں اور ریڈ کراس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آپشرین کے علاقے کا دورہ کریں اور بگٹی قبیلے کے ان بارہ افراد کی لاشوں کی وصولی میں ان کی مدد کریں جنہیں ان کے بقول عید کے دن گرفتار کرنے کے بعد فرنٹیر کور کے اہلکاروں نے بیرکوں کے مقام پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ اسی علاقے میں ہی عید کے پہلے روز بارودی سرنگ پھٹنے سے فرنٹیر کور کے تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ سال سترہ دسمبر کو حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب کوہلو کے دورے کے دوران پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف پر راکٹوں کے حملے ہوئےلیکن وہ محفوظ رہے۔ اس کے بعد پاکستانی فوج نے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں آپریشن شروع کیا جو حکومت کے مطابق فراری کیمپوں میں رہنے والے دہشت گردوں کے خلاف ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||