BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 January, 2006, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاشیں نہیں دی جا رہیں: شاہد بگٹی
 ایف سی
بلوچستان میں کئی روز سے فوج اور قبائلیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے
جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان شاہد بگٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعرات کی جھڑپ میں ہلاک ہونے والے بگٹی قبیلے کے بارہ افراد کی لاشیں ان کے حوالے نہیں کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے ایوب ترین کے مطابق اس بارے میں ڈی سی او عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ انتظامیہ سے کسی نے بھی لاشوں کی وصولی کے لیے رابطہ نہیں کیا۔

جبکہ شاہد بگٹی کا کہنا ہے کہ ان کے قبیلے کی خواتین لاشیں لینے کے لیے گئی تھیں لیکن ایف سی والوں نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے مردوں کو بھیجیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر مرد لاشیں لینے جائیں گے تو ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

اس کے علاوہ سوئی میں دوسرے دن بھی احتجاج جاری رہا اور دکانیں بند رہیں۔ شام کے وقت خواتین اور بچوں نے جلوس نکالا اور فوج کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے بگٹی ہاؤس کا قبضہ نہ چھوڑنے کی صورت میں زبردستی قبضہ لینے کے لیے جمعہ کے روز تک کا الٹی میٹم دیا ہے۔

پولیس کے مطابق سندھ بلوچستان سرحد پر ضلع جیکب آباد کی تحصیل کندھ کوٹ میں مشتبہ قبائلیوں نے سوئی گیس کی پائپ لائن کو بارود سے اڑا دیا ہے۔

اس حملے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے لیکن بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

سوئی گیس پائپ لائن پر حملے ہوتے رہے ہیں

سوئی گیس کے ترجمان عارف ترین نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تخریب کاری کے اس واقعے میں ڈھائی فُٹ پائپ لائن تباہ ہوگئی۔

عارف ترین کا کہنا تھا کہ اس دھماکے سے ملک میں گیس کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی ہے لیکن ’بلوچستان میں کچھ شہر‘ متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تکنیکی ماہرین پائپ لائن کی مرمت کررہے ہیں۔

مقامی پولیس کے اہلکار مظہر شہاب نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس حملے میں قبائلی شدت پسند ملوث ہوسکتے ہیں۔

بلوچستان میں گیس کی پائپ لائنوں کو مقامی قوم پرست نشانہ بناتے رہے ہیں اور حالیہ مہینوں میں ان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے فوج نے بلوچستان میں آپریشن کیا ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے اندر فوج اور قوم پرستوں کے درمیان مسلح جھڑپوں میں کئی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج کی کارروائیوں میں بھی درجنوں لوگ مارے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں کوئٹہ کراچی روڈ پر وڈ کے مقام پر ایک پل پر دھماکہ کیا گیا ہے جس سے پل کو نقصان پہنچا ہے تاہم ٹریفک کا بہاؤ جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق مچھ کے علاقے میں بلوچ لبریشن آرمی اور ایف سی کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جس میں بی ایل اے کے ترجمان کے مطابق ایف سی کو کافی نقصان پہنچا ہے تاہم انتظامیہ نے اس سلسلے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

اسی بارے میں
چوکی پر راکٹ حملہ، تین زخمی
09 January, 2006 | پاکستان
بگٹی ہاؤس پر فوج کا ’قبضہ‘
10 January, 2006 | پاکستان
7 فوجی، 14 شدت پسند ہلاک: فوج
10 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد