فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچوں کی نسل کشی بند کرو، اس نعرے کے تحت کراچی میں بلوچ تنظیموں نے پیر کے روز احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ بلوچ الائنس، نیشنل پارٹی اور بلوچ ادبی کمیٹی کے طرف سے پریس کلب کے سامنے ہونے والے ان مظاہروں میں بڑی تعداد میں نوجوان اور بلوچ رائیٹرس شریک تھے۔ جن کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ مظاہرین کو ڈاکٹر عبدالمالک، زاہد حسین بلوچ، غنی پہلوال اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری جنگ سرداروں کی جنگ نہیں بلکہ یہ بلوچ عوام کے حقوق کی جنگ ہے جس کی ہر باشعور قوم پرست حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں زیادہ تر فوجی حکومت نہ ہوتی عوام کو بنیادی حقوق دیے جاتے تو آج فوج اور بلوچ آمنے سامنے نہیں ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچ ادیبوں اور سیاسی کارکنان کی گرفتاری اور ٹارچر سیلوں میں تشدد سے انسانی حقوق کی دہجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ ریاستی اداروں کے سفاکانہ اور غیر انسانی سلوک کا عالمی اداروں کو نوٹیس لینا چاہئے۔ بلوچ رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ حکمران بلوچ قوم کی نسل کشی کرکے ان کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں مگر ان کو یاد رکھا چاہئے ان کی ایسی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں قومپرست رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی واابستگی سے بالاتر ہوکر اپنی بقا کو قومی تشخص کے لیے متحد جدو جہد کریں۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق بلوچستان میں قوم پرست رہنما جن میں جمہوری وطن پارٹی کے قائدین نے سرِ فہرست ہیں الزام لگایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی اندھا دھند بمباری اور گولہ باری سے اکیس دنوں میں کوئی پینسٹھ افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں ۔ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی بگٹی قبائل کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں اکتیس دسمبر سے ابتک چھتیس افراد فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہے تر خواتین اور بچے ہیں۔ دریں اثناء پیر کے روز کے روز ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں خاموشی رہی جبکہ سوئی میں نیم فوجی دستے کے اہلکاروں نے گیس کمپنی کے لیے کام کرنے والی گیارہ گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔ ایک واقعے میں ایک بگٹی قبیلے کے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ سوئی میں کچھ گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا ہے جن کے کاغذات کی پڑتال کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ علاقے میں زیادہ تر گاڑیوں کے کاغذات نہیں ہیں بلکہ جعلی کاغذات حاصل کیے گئے ہیں جس کے خلاف علاقے میں ایک مہم شروع کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا ہے کہ جب سے ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں شروع ہوئی ہیں لگ بھگ نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ مشکوک افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے لیکن تفتیش کے بعد بے گناہ لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے بیس سے پچیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جن گیارہ گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا ہے یہ گاڑیاں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ پی پی ایل کے لیے کافی عرصہ سے کام کر رہی تھیں۔ کراچی سے سیاستدانوں اور صحافیوں کا وفد کل ڈیرہ بگٹی پہنچے گا جہاں صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ انتظامیہ اور بگٹی قبائل کے دعووں کو پرکھا جا سکے۔ حکومت یہ دعوی کر رہی ہے کہ سیکیورٹی فورسز تنصیبات کے دفاع کے لیے موجود ہیں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے اور یہ کہ سیکیورٹی فورسز اس وقت جوابی کارروائی کرتی ہیں جب ان پر حملہ ہوتا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ سال مارچ میں ایف سی اور بگٹی قبیلے کے مسلح افراد میں جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں نواب اکبر بگٹی کے مطابق تیس ہندوؤں سمیت ستر شہری ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد مذاکرات کے زریعے دونوں جانب سے مورچے خالی کرا لیے گئے تھے اور اعتماد سازی کے لیے کوششوں پر زور دینے کے لیے کہا گیا تھا لیکن گزشتہ ماہ ڈیرہ بگٹی کے قریبی علاقے کوہلو میں فوجی کارروائی سے کچھ روز پہلے اچانک ایف سی نے دوبارہ مورچوں پر قبضہ کرلیا۔ نواب اکبر بگٹی نے فوجی کارروائی سے چند ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ ایک اور فوجی کارروائی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ کوہلو میں صدر جنرل پرویز مشرف کے دورے کے دوران راکٹ داغنے کو بنیاد بنا کر فوجی کارروائی کی گئی لیکن ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کی کارروائی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی محض یہ کہا گیا کہ بگٹی قبیلے کے مسلح لوگ ان پر حملہ کرتے ہیں تو وہ ان کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’بلوچوں کی نسل کشی روکی جائے‘22 January, 2006 | پاکستان ’بلوچستان میں جنگ کی کیفیت‘22 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں ایک بار پھر فائرنگ22 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں انیس افراد ہلاک21 January, 2006 | پاکستان بلوچ قوم پرستوں کو وارننگ 20 January, 2006 | پاکستان پسنی: تھانے پر قوم پرستوں کا حملہ19 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||